حکومت پاکستان نے نادرا آرڈیننس 2000 میں ترمیم کے لیے سینیٹ میں ایک نیا بل پیش کیا ہے، جس کے تحت نادرا کو شہریوں کے شناختی کارڈ 60 دن تک ضبط کرنے کا اختیار دینے کی تجویز شامل ہے۔
بل کے مطابق اگر کسی شناختی کارڈ سے متعلق شکایت موصول ہو یا مزید تحقیقات درکار ہوں تو نادرا کارڈ کو عارضی طور پر بلاک اور ضبط کرسکے گا، جبکہ تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کارڈ بحال کیا جائے گا۔
مجوزہ ترمیم کے تحت نادرا کی اپیل کمیٹی میں ریٹائرڈ جج، سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور دیگر افسران شامل ہوں گے، جو شکایات اور اپیلوں کی سماعت کریں گے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق شناختی کارڈ کے غلط استعمال کی روک تھام اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر قوانین کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بعض عناصر قومی شناختی کارڈز کا غلط استعمال کرکے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسی مقصد کے تحت نادرا کو کارڈ عارضی طور پر ضبط کرنے کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
بل میں شہریوں کو اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے، جبکہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے نوٹس جاری کرنے اور مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کرنے کی شق بھی شامل ہے۔