اقوام متحدہ: انڈین شہریوں کو دہشتگرد قرار دینے کی پاکستانی درخواست مسترد

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے پاکستان کی جانب سے دو انڈین شہریوں کو دہشتگرد قرار دینے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ تجویز اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ‘کمیٹی 1267’ کے سامنے پیش کی گئی تھی۔

کسی بھی ملک کے شہری کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اختیار اسی کمیٹی کے پاس ہے۔ اس کمیٹی کے سامنے ثبوت رکھے جاتے ہیں اور کمیٹی کے ارکان اگر سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص دہشتگردی میں ملوث ہے تو اس کے بینک اکاونٹ منجمد اور سفری اور دیگر پابندیاں بھی عائد کر دی جاتی ہیں۔
پاکستان نے کمیٹی 1267 کے سامنے جو دستاویزات پیش کیے ان کے مطابق دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں بھی انڈین شہری اپاجی انگارہ نے کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے جن دو انڈین شہریوں کو دہشتگرد قرار دلوانے کی کوشش کی گئی ان میں سے ایک اپاجی انگارہ ہیں جو کابل میں ایک بینک میں سافٹ ویئر ڈولپر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ’انگارہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے فروری 2017 میں لاہور کے مال روڈ پر حملہ کیا۔ پاکستان کا الزام ہے کہ انگارہ نے اس کام کے لیے طالبان سے مدد مانگی تھی۔‘

پاکستان نے کمیٹی 1267 کے سامنے جو دستاویزات پیش کیے ان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں بھی انگارہ نے کردار ادا کیا تھا۔‘

جبکہ دوسرے انڈین شہری گووندا پٹنائک کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ ’جولائی 2018 میں پاکستانی سیاستدان سراج رئیسانی پر دہشتگردانہ حملے میں ملوث تھا‘۔

پاکستان کی جانب سے کمیٹی کے سامنے یہ تجویز پیش کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ انڈیا کو ‘دہشتگردی کی معاونت’ کرنے والا ملک قرار دیا جائے۔

فرانس، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور بیلجیئم نے پاکستان کی اس تجویز کو مسترد کیا ہے۔ ان ممالک کی جانب سے یہ پوچھا گیا کہ ’ان الزامات کے ثبوت کہاں ہیں؟‘

اقوامِ متحدہ میں انڈیا کے سفیر ٹی ایس ترومورتھی نے ٹویٹ کیا ‘پاکستان نے دہشتگردی کو مذہبی رنگ دے کر 1267 کمیٹی کے خصوصی عمل کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے جسے سکیورٹی کونسل نے مسترد کر دیا۔ پاکستان کی اس کوشش کو ناکام بنانے پر ہم کونسل کے تمام
ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔’

سکیورٹی کونسل کے تین مستقل ارکان امریکہ، فرانس اور برطانیہ اس معاملے پر انڈیا کی حمایت کر رہے ہیں۔ جبکہ کونسل کے عارضی ارکان جرمنی اور بیلجیئم نے بھی انڈیا کی حمایت کی ہے۔

انڈین حکام سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے انڈیا کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دلوانے میں کامیابی کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ کمیٹی 1267 نے گزشتہ برس مئی میں مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دے کر ان پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

پاکستان نے اس سال دو مرتبہ انڈین شہریوں کو دہشتگرد قرار دلوانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ دونوں کوششیں ناکام رہی ہیں۔

جنوری میں پاکستان نے دو انڈین شہریوں اجوئے مستری اور وینو مادھو پر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر انھیں دہشگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی۔

پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں چین کی مدد حاصل ہے لیکن ان کوششوں میں ناکامی کی وجہ کونسل کے دوسرے اراکین کی مخالفت ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ بلوچستان میں پاکستان کی بڑتی مظالم کے خلاف دنیا بھر میں آواز اُٹھایا جارہا ہے جسکی وجہ سے تجزیہ نگار وں کا کہنا ہے کہ شاید آنے والوں وقتوں میں پاکستان کو اس حوالے عالمی قوانین کا بھی سامنا کرنے پڑئے اس حوالے پاکستان نے ہندوستان کے خلاف اپنی سفارتی کاروائیوں میں تیزی لائی ہوئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment