شہیدچیئرمین غلام محمد بلوچ – آخری قسط

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read


قائد انقلاب شہید غلام محمد بلوچ کی سوانح عمری اور سیاسی بصیرت کا ایک طائرانہ جائزہ
آخری قسط ۔
تحریر: محمد یوسف بلوچ پیش کردہ : زرمبش پبلی کیشن

”سوانح حیات قائدِ انقلاب شہید چیئر مین غلام محمد بلوچ “بلوچستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما شہید چیئر مین غلام محمد بلوچکی سوانح عمری، جدجہد،فکرو نظریات اورسیاسی بصیرت پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے ان کے بھائی محمد یوسف بلوچ نے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب بلوچ جدو جہد آزادی کے کاروان میں شامل افراد کیلئے معلومات و دلسچپی کا ایک بہتر ذریعہ ہے ۔ ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ کی سیاسی بصیرت، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں۔ یہ کتاب ہم ”زرمبش پبلی کیشن“کی شکریہ کے سا تھ شاع کر رہے ہیں۔(ادارہ سنگر)

(آخری قسط )

فکرِ غلام محمد زندہ ہے:۔
اپنے لہو سے تاریخ رقم کرنے والا شہید غلام محمد بلوچ جسمانی طور پہ تو ہم جدا ہوگئے لیکن ان کا نظریہ اور فکر بلوچ قوم کے لیے ورثہ بن چکا ہے۔جس کی وراثت کا آج ہربلوچ حق دار ہے اور اپنے سینے میں لیے، زبان سے بیان کرتے ہوئے اور کردار اور عمل سے ظاہر کرتے ہوئے کاروانِ آزادی کو لیے جانب منزل رواں ہیں۔جس منزل کی بنیاد شہید غلام محمد بلوچ نے رکھا تھا آج وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے جسے جڑسے اکھاڑ پھینکا عاد و ثمود کے بس میں بھی نہیں۔ اس حوالے بلوچ نیشنل موومنٹ

(BNM)

کے موجودہ چیئرمین واجہ خلیل بلوچ کا کہنا ہے کہ ” اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شہید غلام محمد بلوچ کی شہادت پوری بلوچ قوم کے لیے ایک عظیم المیہ تھا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شہید کی کمی ہم پوری نہیں کرسکتے لیکن شہید نے جاتے جاتے ایک ایسا عظیم کارنامہ سرانجام دیا جو پوری بلوچ تاریخ میں ہمیں نظر نہیں آتی،
وہ ہے بلوچ قومی تحریک کو ادارتی شکل دینا، یہی عظیم کارنامہ شہید غلام محمد بلوچ کو ایک منفرد مقام عطا بخشتاہے اور اس عظیم کارنامے کی وجہ
سے بلوچ نیشنل موومنٹ ہر مشکل حالات کا کامیابی سے مقابلہ کرتا آرہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر شہید غلام محمد بلوچ بلوچ نیشنل موومنٹ( کو ادارتی شکل میں نہیں لاتا تو آج پارٹی کا وجود بھی نظر نہیں آتا۔ آج بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچستان سمیت بیرون ملک اپنا لوہا منوا چکا ہے یہ سب شہید غلام محمد بلوچ کی وجہ سے ممکن ہوا۔”
شہید غلام محمد بلوچ زندہ ہے ہم ہر روز یہ الفاظ دہراتے ہیں، کارکنوں اور بلوچ عوام کا جدوجہد آزادی میں کردار سے ہمیں ہر سمت نظرآتا ہے کہ غلام محمد زندہ ہے اور زندہ رہیگا۔یہی نہیں بلکہ قابض ریاست کے غیر مہذبانہ حرکات سے یہ یقین ہوتا ہے کہ شہید آپ کا فکر کبھی مر نہیں سکتا۔قابض فورسز کا آئے روز گھروں پہ چھاپے، قبرستان میں جا کر شہید غلام محمد بلوچ کی آخری آرام جاہ کی بے حرمتی تہذیب سے نا آشناء قابض ریاست کے روز کا معمول بن چکا ہے۔
دشمن کی ان حرکتوں اور بزدلی پہ شہید کی روح بھی قہقہے مارتا ہوگا اور اپنے ہمنواء شہیدوں سے کہتا ہوگا کہ ریاست اب تک ہم سے خوفزدہ ہے اور یہی میرے قوم کی کامیابی ہے۔
فکر غلام محمد کبھی زوال پذیرنہیں ہوسکتا جبکہ قبضہ گیر ریاست اور اس کے نمک حلال نیشنل پارٹی اور دیگر نام نہاد قوم پرستی کے دعویداروں کا یہ خیال تھا کہ بلوچ ایک قبائلی سماج ہے اور غلام محمد بلوچ کا تعلق متوسط طبقے سے ہے لہذا ان کے لیے کوئی اپنی جان خطرے میں ڈال کے عسکری اداروں کو للکار نہیں سکتا۔لیکن جب اس واقعے کے بعد بلوچ قوم نے فکر غلام محمد کی جھلک دکھا کے پوری ریاستی مشینری کو خاکستر کردیا تو قابض ریاست کے ساتھ ساتھ ریاست کے ان دلالوں کے بھی ہوش ٹھکانے آگئے اور انہیں یہ یقین ہوچلا کہ اب بلوچ قوم کردار کا بھوکا ہے اور وہ کردار کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کریگا۔
غلام محمد کی شہادت نے بلوچ قوم میں زندگی کی اصل روح پھونک دی اب وہ اپنے انداز میں جینے اور مرنے کے ہنر سے آشناء ہوچکا ہے، جینے اور مرنے کا یہی ہنر فکرشہید غلام محمد بلوچ ہے جو ایک عشرہ گزرنے کے باوجود اسی روانی بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ بلوچ قوم میں سرایت کرچکا ہے۔ یہ شہید غلام محمد بلوچ کا نظریہ اور فکر ہے جس نے شہید کی شہادت کے بعد بلوچ قومی تحریک کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں کارکنوں کی رہنمائی کی، یہی فکر غلام محمد بلوچ ہے جس نے شہید آصف جان کو شہادت کے رتبے پہ پہنچایا،یہی فکر غلام محمد ہے جس نے آج ہر بلوچ کو غلامی سے نفر ت اور آزادی کے احساس سے بہرہ ور کیا۔اب بھلادنیا میں ایسی کوئی مادی طاقت ہے جو اس فکر کو ختم کردے جو اب یقیناً نہیں ہوگا۔کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوم اور وطن کے شہدا ء اپنے لہو سے ایسے چراغ روشن کرتے ہیں جنہیں بجھانا طوفانوں کے بس میں بھی نہیں ہوتا۔
اے شہید میں کم علم اور کمزور سا انسان ہوں لیکن تو نے مجھ جیسے نحیف انسان کو بھی اس راہ کا راہی بنادیا جس کے لیے میں جتنے سجدے کروں شایدوہ بھی کم پڑجائیں۔ اے شہید تیرے جانے کے بعد دیگر ہزاروں بلوچ فرزندوں کے ساتھ آصف جان اور عاطف جان بھی ثابت قدمی سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اسی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔حیریہ جسے تو نے سب سے زیادہ پیار
دیا، اس نے بھی اپنی زندگی قوم کے نام کی ہے نہ صرف تیری حیریہ بلکہ تمام بچے فکر غلام محمد کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں اور انشااللہ پوری زندگی اسی راہ کے مسافر بنے گے۔


شہید حمید بلوچ کے خطوط شہید غلام محمد بلوچ کے نام

خط نمبر (۱)۔
از سنٹرل جیل مچھ بولان
13جولائی 1980ء
اب جواز نہ موقع ہے، ہاتھ ملنے کا

نہیں کوئی شوق رہا، راستے بدلنے کا

گل جان،

السلام علیکم،
بعد سلام خیریت ہے، امید ہے آپ ناکو کے ساتھ خیریت سے ہونگے۔ آج بیٹھے بیٹھے آپ یاد آگئے، اور کاغذ اور قلم اٹھا کر خط لکھ رہا ہوں۔ امید ہے جواب دے کر مزید لکھنے کا موقع دیں گے۔ دیگر گوادر کے حالات معلوم کرنا۔

جس صبح سے کوئی مقتل میں گیا ہوں
وہ شان سلامت رہتی ہے

آ جان تو آنی جانی ہے
اس جان کی کوئی بات نہیں ؎

دیگر جان خطوط چار، پانچ جگہ پڑھنے اور سننے کے بعد قیدیوں کو مل جاتے ہیں۔ میں اپنے بارے میں بتاؤں کہ ابھی تک کوئی سزا وغیرہ نہیں ہواہے۔ اور نہ دے سکتے ہیں۔ بہر حال جو بھی سزا ہو۔بہ سر و چشم قبول۔

بلوچستان زندہ باد۔۔۔بی ایس او زندہ باد۔۔۔۔
ظفاری زندہ باد۔۔۔ظفاری،بلوچ بھائی بھائی
امریکی سامراج مردہ باد
* خط نمبر(۲)

میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے پھانسی کے امیدوار بھائی کو ہمیشہ خط لکھتے رہوگے۔

گل جان،
اطاعت اور غلامی کی قید میں پھنسے ہوئے لوگ اگر آجوئی کی خاطر اپنے بازو اور پھیر چلائیں تو آزاد ہوسکتے ہیں۔

ایک پھول تھا کچھ خوشبو پھیلائی اور رخصت ہوگیا۔ مرجھائے پھول کا انجام یہی ہونا تھا۔

یہ خون کی مہک کہ لب یار کی خوشبو
کس رہ کی جانب سے جب آنی ہے دیکھو

بے وطن کہلائے اپنے دیس میں
اپنے گھر میں رہ کے بے گھر ہوگئے

وقت آگیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر
ہے سمندروں میں اتر جانا چاہیے

زندگی کے کسی موڑ پر کھو گئے
اور ایک دوسرے سے جدا ہوگئے

اور ڈاکٹر رشید کا پاؤں کیسا ہے۔ جس دن آپ کو میری گرفتاری کی خبر ملی اس وقت ٹائم کیا تھا۔ اور اس وقت آپ نے کیا کیا؟ اور کیا سوچا؟ تفصیل سے لکھ دینا۔

گوادر میں جو شخص مجھ سے واقف ہے،سب کو میری طرف سے سرخ سلام۔

ناکو کو سرخ سلام

بلوچستان سبزبات

شمے برات
حمید بلوچ
Abdul Hamid Baloch
Prisoner Central jail Mach Bolan

ختم شد

Share This Article
Leave a Comment