مسنگ پرسنز کا معاملہ بیت المقدس سے بھی اہم، قلات کی تاریخی حیثیت ختم کرنا خالص فوجی ارینجمنٹ ہے، اسلم رئیسانی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

رکن بلوچستان اسمبلی نواب اسلم رئیسانی نے قلات ڈویژن کو ختم اور مستونگ کی کوئٹہ ڈویژن میں شمولیت کیخلاف آئینی درخواست بلوچستان ہائیکورٹ میں داخل کردی، درخواست میں حکومت بلوچستان کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس حوالے سے نواب اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہپاکستان میں 1973 کا آئین ہے، آئین عوام کو بنیادی حقوق دیتا ہے، حکومت نے مستونگ اور قلات کے عوام کو نہیں سنا، عوامی نمائندوں کو سننا ہوگا، بغیر سنے تقسیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ سراوان جھالاوان کو سنے بغیر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا یہ ہمارے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کوئٹہ کیبنٹ کے ممبران متاثر ہوئے اور وہ بھی خاموش ہیں۔ حالات کی بہتری کے لیے نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ ڈویژن کی حیثیت ختم کرنے سے قلات کی تاریخی حثیت ختم کردی گئی۔ حکومت کوئی بھی الاٹمنٹ یا اراضی کی خریداری میں قبائل کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ ہم نے 1973کے آئین کے مطابق پٹیشن دائر کی ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ انتظامی نہیں سیاسی ہے۔

صحافیوں کے سوال کے جواب میں نواب اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ نہ ہم وزراءاعلیٰ کی تبدیلی کے حامی ہیں اور نہ اس کو اہمیت دیتے ہیں، ان حالات میں مجھے نہیں کسی کو بھی وزیراعلیٰ بنا دیا جائے اب حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

ہم کہتے ہیں کہ جو نظام ہے اس نظام کو بہتر ہونا چاہیے اور عوام کے حق میں ہونا چاہیے۔ یہ بھی آپ کو بتاؤں کو بلوچستان ایک کثیر القومی ریاست ہے جہاں قومیں بستی ہیں اور ہماری قوموں کی اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنا علاقہ، اپنی زمین، اپنا آسمان ہے تو اس کو تسلیم کرنا چاہیے۔ جو اسلام آباد میں بیٹھے ہیں ان کو تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے۔ بلوچوں کا مسئلہ سیاسی ہے انتظامی نہیں ہے بلوچوں کے سیاسی مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری نظر میں ہمارے مسنگ پرسنز کا جو مسئلہ ہے و ہ بیت المقدس اور کشمیر سے بہت زیادہ اہم ہے۔ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ماہ رنگ بلوچ کو مسنگ پرسنز کے مسئلے میں گرفتار کیا گیا۔ میں میڈیا کے توسط سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جتنے بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران ہیں ان سب کو فوری رہا کیا جائے لوگوں کو اٹھا کر گمشدہ کرنا، ہمارے لوگ 26 ، 26 سال سے گم ہیں ، مسنگ پرسنز ہمارا بہت اہم مسئلہ ہے ۔ ہم مستونگ میں لگائے گئے کرفیو کی مذمت کرتے ہیں اس کرفیو کو فوری اٹھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جو کھڈ کوچہ میں جو حالات ہیں کہ کوئی گھر سے نکلتا ہے کسی کام سے کوئی اسٹوڈنٹ ہے یا کسی بھی کام سے گھر سے نکلتا ہے، کوئی پانی بھرنے نکلتا ہے، کوئی مریض ہوتا ہے تو اسے گولی مارنے کا حکم ہے تو یہ غلط ہے اس کرفیو کو فوری ختم کیا جانا چاہیے۔

نواب رئیسانی نے کہا کہ قلات اسٹیٹ یونین جو ہماری چار ریاستیں تھیں ہم نے تو رضا رکارانہ پاکستان سے الحاق کیا تھا کسی مجبوری کے تحت نہیں ڈویژن ختم کرنے کا معاملہ کوئی ایڈمنسٹریٹو ارینجمنٹ نہیں یہ فوجی ارینجمنٹ ہے۔ ژوب سے لیکر گوادر تک ہمارے لوگوں سے پوچھے بغیر جو نوٹیفکیشن کیا گیا ہے ہم اس کو اپنے قبائلی حقوق کیخلاف وائلیشن تصور کرتے اور اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ یہ حکومت جمہوری ہے لیکن یہ تو ڈکٹیٹر شپ ہے ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article