آئی ایس پی آر کا بلوچستان میں 10 مسلح افراد کو مارنے اور 2 خواتین سمیت 3 کی گرفتاری کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فوج نے بلوچستان میں مختلف کارروائیوں میں 10 مسلح افراد کومرنے اور دو خواتین خودکش بمبار سمیت ایک سہولت کارکی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیاہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 10 مبینہ مسلح افراد کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ دو خواتین خودکش بمباروں اور ایک سہولت کار کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں ان گروہوں کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ ہیں۔

آئی ایس پی آرنے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے ضلع سوراب اور ضلع مستونگ میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کی گئیں۔

آئی ایس پی آر کے دعوے کے مطابق ’ضلع مستونگ میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو خواتین خودکش بمباروں اور ان کے ایک سہولت کار کو گرفتار کیا گیا۔‘

بدھ کے روز آئی ایس پی آر سے جاری بیان میض دعویٰ کیا ضلع سوراب میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں سات مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

فوج کے دعوے کے مطابق کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

بلوچستان میں پاکستانی فوج کی آپریشن کے نام سے جاری حالیہ فوجی جارحیت میں درجنوں مسلح افراد کو مارنے کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم اب تک ان کی شناخت حسب روایت میڈیا میں ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں فوج کے اس طرح کے کئی دعوئوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی تھی، جنہیں دورانِ حراست قتل کرکے جعلی مقابلوں میں مارا گیا تھا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article