بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بشیر چوک اور کرانی روڈ پر رات 9 بجے تک جاری دھرنا خواتین مظاہرین کے رہائی کے بعد ختم کر دیا گیاہے۔
اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) کی جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج بلوچستان کے شہر کوئٹہ، سریاب روڈ برما ہوٹل کے مقام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے اہلخانہ کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پُرامن احتجاج ریکارڈ کیا گیا، جس میں بی وائی سی کی قیادت کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھاری تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی، جس دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس اقدام کے ردعمل میں پُرامن احتجاج کو کوئٹہ کے مختلف مقامات پر دھرنوں کی صورت میں توسیع دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بعد ازاں گرفتار کیے گئے چند مظاہرین کو رہا کر دیا گیا، تاہم کچھ راہ گیروں کو بھی پولیس نے حراست میں لیاگیا تھا جو اب بھی بغیر کسی جرم کے قید ہے جنہیں کل رہا کرنے کی یقین دہانی کی گئی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ بلوچستان میں موجود سول انتظامی نظام کو عملی طور پر عسکری طرزِ انتظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں ایک پُرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بھی برداشت نہیں کیا جارہا۔
کمیٹی کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ انسانی حقوق، انصاف اور جبر کے خلاف اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ہم تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف جاری فیس لیس ٹرائیل کے خاتمے اور غیر منصفانہ سزا کے موخری تک مسلسل آواز بلند کرتے رہینگے۔ تمام شہریوں، سیاسی و سماجی قوتوں، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں بنیادی حقوق کی پامالیوں اور پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر عائد قدغنوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔