بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا پُرامن احتجاج اب سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔
بشیر چوک پر جاری پُرامن دھرنے کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے ایک بار پھر شدید شیلنگ اور طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیا ہے، جس کے ردِعمل میں مظاہرین نے احتجاج کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ‘کرانی بائی پاس’ کو بھی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس احتجاج کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب بی وائی سی (BYC) کے اسیر رہنماؤں کے اہلِ خانہ نے برما ہوٹل، سریاب روڈ پر ایک پُرامن مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، احتجاج شروع ہوتے ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی چھوٹی بہن سمیت متعدد مظاہرین اور خواتین کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔
اس ریاستی کارروائی کے خلاف مظاہرین نے بشیر چوک پر جمع ہو کر اسے دھرنے میں تبدیل کر دیا تھا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، بشیر چوک پر دھرنا پچھلے کئی گھنٹوں سے بدستور جاری ہے، جہاں پولیس نے مظاہرین کو زبردستی منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے۔
پولیس کی اس کارروائی کے باوجود مظاہرین کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک گرفتار کیے گئے تمام افراد کو بلاشرط اور غیر مشروط طور پر رہا نہیں کیا جاتا، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا اور احتجاج کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔
مظاہرین نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ہم اپنے آئینی و جمہوری حقِ احتجاج سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور گرفتار شدگان کی رہائی تک دھرنا جاری رہے گا۔
دوسری جانب، بی وائی سی (BYC) نے کوئٹہ کے تمام باشعور شہریوں، طلبہ، وکلا، سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر بشیر چوک پہنچ کر دھرنے میں شرکت کریں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ انصاف، بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے اس پُرامن جدوجہد کا حصہ بن کر مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے۔