برائٹن، برطانیہ (سنگر نیوزویب ڈیسک)
برطانیہ میں پبلک سیکٹر کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین "یونیسن” (UNISON) کی نیشنل ڈیلیگیٹ کانفرنس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا معاملہ نمایاں طور پر اٹھایا گیا ہے۔ برائٹن سینٹر میں 16 سے 19 جون تک جاری رہنے والی اس چار روزہ کانفرنس میں ملک بھر سے لوکل گورنمنٹ، صحت، اعلیٰ تعلیم اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1,000 ڈیلیگیٹس اور اتنی ہی تعداد میں مبصرین اور مہمانوں نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ "یونیسن” 1.3 ملین (13 لاکھ) سے زائد اراکین کے ساتھ برطانیہ کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین ہے، جو پبلک سیکٹر سمیت دیگر شعبوں میں سرگرم ہے۔
کانفرنس کے دوران بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن اومر کریم نے شرکا اور ڈیلیگیٹس میں "Stop Silencing Balochistan’s Voices” (بلوچستان کی آوازوں کو دبانا بند کرو) کے عنوان سے پمفلٹ اور معلوماتی لٹریچر تقسیم کیے۔
اس مہم کا بنیادی مقصد بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، آزادیِ اظہارِ رائے پر پابندیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے اراکین و قیادت کی قید سمیت انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر آگاہی پیدا کرنا تھا۔
ان پمفلٹس نے یونیسن کے متعدد متحرک ارکان کی توجہ حاصل کی اور ان کی طرف سے مثبت ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ کارکن اومر کریم نے کہاکہ "میں بیرونِ ملک مقیم تمام بلوچ سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ٹریڈ یونین کانفرنسوں، سیاسی اجتماعات اور انسانی حقوق کے فورمز جیسے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ یہ پلیٹ فارمز بین الاقوامی سامعین کے ساتھ رابطے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتے ہیں جو بلوچستان کے حالات جاننے اور انسانی حقوق کی حمایت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان فورمز تک پہنچیں اور بلوچ عوام کے خلاف ہونے والی پامالیوں پر آواز اٹھائیں۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچ مرد، خواتین اور بچے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا شکار ہو رہے ہیں، ان کی آوازوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ عالمی سطح پر آگاہی اور روابط ہی اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ بلوچ عوام کے تحفظات عالمی فورمز اور انسانی حقوق کی بحث کا حصہ بنیں۔
کانفرنس کے دوران اومر کریم نے یونیسن کے متعدد نمائندوں اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کی ملاقات گلاسگو سٹی سے یونیسن کانفرنس کے ڈیلیگیٹ اسٹیورٹ گراہم سے بھی ہوئی، جو یونیسن کی نیشنل ایگزیکٹو کونسل اور اس کی انٹرنیشنل کمیٹی کے رکن ہیں۔ اسٹیورٹ گراہم نے یونیسن اور برطانیہ کی لیبر موومنٹ کے اندر بلوچ کاز کو فروغ دینے اور اس بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس سلسلے کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔
اومر کریم نے کانفرنس کے ساتھ ساتھ منعقد ہونے والی دیگر ذیلی (Fringe) میٹنگز اور مظاہروں میں بھی شرکت کی۔ ان سرگرمیوں میں یونیسن کے دو معطل شدہ ارکان، امین ہادی اور ٹام بارکر کی حمایت میں ہونے والی میٹنگز بھی شامل تھیں، جنہیں ان کی ٹریڈ یونین اور سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں آجروں نے معطل کیا تھا اور ان کے ساتھی ان کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔
یونیسن کی نیشنل ڈیلیگیٹ کانفرنس برطانیہ کے سب سے بڑے ٹریڈ یونین اجتماعات میں سے ایک ہے، جہاں نہ صرف برطانوی ملازمین کے حقوق بلکہ دنیا بھر میں ورکرز رائٹس، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوتی ہے۔ اس سال بھی مختلف برانچز کی جانب سے فلسطین، یوکرین اور سوڈان سمیت دیگر بین الاقوامی مسائل پر قراردادیں پیش کی گئیں۔
بلوچستان کے حوالے سے چلائی جانے والی اس مہم کا مقصد بھی یہی تھا کہ خطے کی صورتحال، احتساب اور انصاف کے ان عالمی مباحثوں کا ایک مضبوط حصہ بنے۔ کانفرنس کے دوران کی جانے والی سرگرمیوں نے برطانیہ کی مزدور تحریک (UK workers’ movement) میں بلوچ کاز کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کر دی ہے۔