بلوچستان کے ضلع پنجگور میں پاکستانی فورسز نے 5 نوجوانوں کو گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
پروم کے علاقے کہدہ حکیم بازار سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے سعد اللہ ولد غلام جان اور زیاب ولد کہدا کریم جان کو حراست میں لینے کے بعد ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
اہلِ خانہ کے مطابق دونوں نوجوانوں کو 15 جون کو جبری لاپتہ کیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق دونوں افراد دکان پر موجود تھے جب پاکستانی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد دونوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور اس کے بعد سے ان کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ایک اورواقعہ میں پروم سے پاکستانی فورسز نے مزید 3 افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق عزیز ولد حسن، صدیق ولد جان محمد اور لطیف ولد حاجی ہاشم کو آج صبح ان کے گھروں سے فورسز نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
یہ تینوں پروم کے علاقے لیگورک کے رہائشی ہیں ۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بہت عرصے سے جاری ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔