بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بلوچستان گرینڈ الائنس کے ملازمین کوبلوچستان اسمبلی کی جانب مارچ کرنے پر پولیس کی کریک ڈائون ، متعدد افراد گرفتارکرلئے گئے ۔واقعہ کے بعد گرینڈ الائنس نے بلوچستان میں کل سے غیر معینہ مدت کےلیے تمام سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کے ملازمین کی اپنے مطالبات کے حق میں بلوچستان اسمبلی کی جانب مارچ کی کوشش پر پولیس نے شیلنگ سے کریک ڈائو ن کا آغاز کرکے 10سے زائد رہنمائوں کوگرفتار کر لیاگیا ۔
بدھ کو بلوچستان کے بجٹ اجلاس کے موقع پر بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے ریلیاں نکالی گئیں جو چمن پھاٹک کے مقام پر جمع ہوئیں۔
بعد ازاں مظاہرین نے بلوچستان اسمبلی کی جانب مارچ شروع کیا، تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی اور پولیس نے شیلنگ کرتے ہوئے متعدد کارکنوں اور رہنمائوں کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کارروائی کے دوران بلوچستان گرینڈ الائنس کے کنونیئر عبدالقدوس کاکڑ سمیت 10افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ شہر کے مختلف مقامات پر پولیس اور احتجاجی ملازمین کے درمیان بھاگ دوڑ کا سلسلہ جاری رہا۔
اس موقع پر بلوچستان گرینڈ الائنس کے آرگنائزر قدوس کاکڑ نے کہا کہ ملازمین ہر صورت میں اسمبلی کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کارکنوں کا جمہوری حق ہے۔واقعے کے بعد کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ۔
واقعہ کے خلاف بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس نے احتجاجی ریلی پر پولیس کارروائی، تشدد اور ملازمین کی گرفتاریوں کے خلاف 18 جون سے بلوچستان بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کی بندش اور لاک ڈائون کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان گرینڈ الائنس کے سربراہ عبدالقدوس کاکڑ اور رہنما یونس کاکڑ نے کوئٹہ میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ 18 جون سے بلوچستان بھر میں تمام سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور دیگر سرکاری ادارے بند رہیں گے جبکہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
گرینڈ الائنس کے رہنمائوں نے مزید اعلان کیا کہ 19 جون سے کوئٹہ میں تادم مرگ دھرنا دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین پر تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور مطالبات کی منظوری تک اسے مزید وسعت دی جائے گی۔
عبدالقدوس کاکڑ نے الزام عائد کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والے ملازمین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جس کے خلاف سرکاری ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
گرینڈ الائنس کے مطابق احتجاجی تحریک کا مقصد ملازمین کے حقوق کا تحفظ اور اپنے مطالبات کی منظوری حاصل کرنا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں احتجاجی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔