لاپتہ بلوچ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6194ویں روز بھی جاری رہا۔
وی بی ایم پی نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا فوری خاتمہ کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ طویل عرصے سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، لہٰذا ریاستی ادارے اس انسانی مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
وی بی ایم پی نے عوام، سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے نوجوان کی جبری گمشدگی کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
کمبر ولد ماسٹر عثمان، جو پیشے کے لحاظ سے مزدور ہیں اور آسیا آباد کورجو تمپ کے رہائشی ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق 12 جون 2026 کی شب تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر انہیں ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ اس اغواء میں ایف سی اور ایم آئی کے اہلکار ملوث تھے۔
اہلِ خانہ کے مطابق کمبر کو گھر سے لے جانے کے بعد ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہے۔