بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کی مرکزی کال پر سانحہ زہری، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور پارٹی رہنما خلیل احمد موسیانی کی ہلاکت کے خلاف بدھ کے روز کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مکمل اور کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
ہڑتال کے باعث بلوچستان کے متعدد اضلاع میں تجارتی و کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں اور نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
بی این پی کے مرکزی رہنماؤں کے مطابق، بلوچستان بھر کی یہ ہڑتال پارٹی کے مرکزی رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کی رہائش گاہ واقع زہری بلبل میں کیے گئے فوجی جارحیت ، فائرنگ، تشدد، اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف ریکارڈ کرائی گئی ہے۔
کارروائی کے دوران سردار نصیر احمد موسیانی اور عمیر سمالانی پر براہِ راست حملہ کیا گیا، جس کی زد میں آ کر بی این پی خضدار کے سینئر نائب صدر خلیل احمد موسیانی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔ اس کے علاوہ فورسز نے سردارزادہ زہری خان موسیانی سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
مستونگ میں بی این پی کی کال پر تاریخی ہڑتال دیکھی گئی جہاں تمام چھوٹے بڑے بازار اور تجارتی مراکز مکمل بند رہے۔
ہڑتال کی مانیٹرنگ کے موقع پر بی این پی کی ضلعی قیادت کے ہمراہ نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر، جماعت اسلامی مستونگ کے ضلعی امیر، اور جمعیت علمائے اسلام (JUI) کے قائدین بھی موجود تھے۔
مقررین نے کہا کہ مستونگ میں ہڑتال کی سو فیصد کامیابی بی این پی کے بیانیے پر عوام کے گہرے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے مختلف اہم تجارتی علاقوں اور کاروباری مراکز میں دکانیں بند رہیں، جبکہ ضلع خاران میں بھی تاجر برادری نے بی این پی کے مطالبات کے حق میں بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مارکیٹیں اور دکانیں مکمل بند رکھیں۔
نوشکی بازار کو بھی مکمل طور پر بند رکھا گیا، جہاں بی این پی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر میر خورشید احمد جمالدینی، ضلعی عہدیداروں حاجی منیر احمد مینگل ایڈوکیٹ، لیاقت علی مینگل اور قاسم ہمراز کے ہمراہ ہڑتال کی نگرانی کرتے رہے۔
دوسری جانب ضلع سوراب میں بھی مکمل پہیہ جام رہا، جہاں بی این پی کے ضلعی صدر عبد اللطیف قلندرانی، جنرل سیکرٹری سلطان امام بلوچ، ظفر جان مینگل اور ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے شہر کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔
پارٹی کی مرکزی کال پر ضلع آواران میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال پر مکمل عملدرآمد کیا گیا اور پورا شہر مکمل طور پر بند رہا۔
مختلف اضلاع میں مظاہروں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے سانحہ زہری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور سیاسی آزادیوں پر کھلا حملہ قرار دیا۔
سیاسی و سماجی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے سانحہ زہری کی فوری طور پر شفاف اور اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔خلیل احمد موسیانی کے قتل میں ملوث عناصر اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔سردارزادہ زہری خان موسیانی سمیت کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے تمام افراد کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کا سلسلہ اب ناقابلِ قبول ہو چکا ہے، اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔