8 جون بلوچ قوم کی تاریخ میں ایک کھلا سیاسی اعلان ہے، بی وائی سی کا پمفلٹ جاری

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے 8 جون "بلوچ قومی مزاحمت اور یادِ اسیران” کے موقع پر بلوچ قوم، باوقار شہریوں، نڈر آوازوں اور فکری ساتھیوں کے نام ایک تفصیلی اور توانا پمفلٹ جاری کیا ہے، جس میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور ریاستی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جدوجہدِ مسلسل کا عزم دہرایا گیا ہے۔

پمفلٹ میں کہا گیا کہ 8 جون بلوچ قوم کی تاریخ میں صرف ایک یاد کا دن نہیں بلکہ ایک کھلا سیاسی اعلان ہے کہ ظلم، جبر اور ریاستی تشدد کو بھلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی قبول کیا جا سکتا ہے۔ یہ دن ان ہزاروں بلوچ نوجوانوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی یاد میں ہے جنہیں ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، غیر قانونی قید، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور انسانی وقار کی سنگین پامالیوں کا نشانہ بنایا گیا یہ وہ دن ہے جب ہم اجتماعی طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ظلم کو خاموشی سے برداشت کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

بلوچ قوم کے نام جاری پمفلٹ میں کہا گیا کہ 8 جون مزاحمت، انکار اور تسلسلِ جدوجہد کا اعلان ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاستی جبر کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی پالیسی ہے جس کا مقصد بلوچ قوم کو خوف، خاموشی اور تقسیم میں مبتلا رکھنا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبر جتنا بڑھتا ہے، مزاحمت اتنی ہی گہری ہوتی ہے۔ وہ نوجوان جو قید و بند اور جبری گمشدگی کا شکار ہوئے، وہ آج بھی اپنی قوم کے شعور میں زندہ ہیں۔ ان کی قربانیاں خاموش نہیں بلکہ ایک جاری سیاسی بغاوت کی بنیاد ہیں۔”

شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب کوئی انفرادی یا اتفاقی عمل نہیں رہیں۔ یہ ایک منظم ریاستی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہیں، جس کا مقصد سیاسی اختلاف کو کچلنا، اجتماعی شعور کو توڑنا اور خوف کو بطورِ حکمرانی استعمال کرنا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس میں آواز اٹھانے والوں کو غائب کر دیا جاتا ہے، سوال کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور پورے معاشرے کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ کوششیں اب مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔

کمیٹی نے پمفلٹ میں کہا کہ جبر خود اس حد تک ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے کہ اسے مزید چھپایا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک گہرے زخم کی مانند ہر فرد کے سامنے ریاستی بربریت کے ثبوت کے طور پر عیاں ہو چکا ہے۔ جس اجتماعی شعور کو توڑنے کے لیے اس ہتھیار کو استعمال کیا گیا، آج وہی اجتماعی شعور اس کے خلاف مزید مضبوط اور بیدار ہو رہا ہے۔ یوں جبری گمشدگیوں کی یہ پالیسی، اجتماعی مزاحمت کو کمزور کرنے کے بجائے، اس کی آبیاری اور تقویت کا سبب بن رہی ہے۔”

بلوچستان کی نڈر آوازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ جبر کا سب سے بڑا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ مزاحمت کو ختم کر سکتا ہے، لیکن بلوچستان نے اس دعوے کو بار بار جھوٹ ثابت کیا ہے۔ ہم نے بلوچستان میں اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے کہ متاثرہ خاندان صرف متاثرین نہیں بلکہ مزاحمت کی پہلی صف ہیں ۔ مائیں جو سڑکوں پر کھڑی ہیں وہ ریاست کے جھوٹ کے خلاف زندہ احتجاج ہیں، بہنیں جو انصاف مانگتی ہیں وہ خاموشی کے نظام کو چیلنج کر رہی ہیں، بچے جو اپنے والد کے بارے میں سوال کرتے ہیں وہ ریاستی بیانیے کو توڑ رہے ہیں، یہ وہ سیاسی حقیقت ہے جسے کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔

پمفلٹ میں کہا گیا کہ جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا انتظار اب ایک سیاسی سوال میں بدل چکا ہے، جبر و تشدد سے ریاست حقائق کو مسخ تو کر سکتی ہے مگر وہ مزاحمت کو روک نہیں سکتی جو جبری گمشدہ افراد کے درد سے توانائی حاصل کر رہی ہے۔”

فکری ساتھیوں کے نام ایک پیرگراف میں کہا گیا کہ ریاستی طاقت نے جبری گمشدگیوں کو چھپانے، ان کا جواز پیش کرنے اور ان کی سنگینی کو کم کرکے دکھانے کے لیے مختلف ادارے، کمیشن اور بیانیے تشکیل دیے، مگر یہ تمام کوششیں ایک گہری ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں۔ اس مسئلے پر قائم کی گئی بیانیہ سازی خود اپنے ہی بوجھ تلے منہدم ہو چکی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف اٹھنے والی توانا آوازوں کو قید کرکے اور ان پر پابندیاں عائد کرکے ریاست خود اپنی بوکھلاہٹ اور بے بسی کا اظہار کر چکی ہے۔

پمفلٹ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کہا گیا کہ یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ریاست کے پاس اس جرم کو جاری رکھنے کا نہ کوئی مضبوط قانونی جواز موجود ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ دفاع سیاسی دلیل۔ مسئلہ محض چند ریاستی اداروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے اس نظام کا حصہ ہے جس کی تشکیل اور بقا میں جبر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لیے یہ نظام انتہائی سفاکی کے ساتھ اس پالیسی پر قائم ہے، کیونکہ اس کے پاس ہماری سرزمین کے وسائل پر قبضے، استحصال اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔”

جاری پمفلٹ میں با شعور بلوچ عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیاکہ 8 جون ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ جبر کے ساتھ شراکت داری ہے۔ آج ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھائے، متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہو، ریاستی جبر کو بے نقاب کرے، اور اس سیاسی نظام کو چیلنج کرے جو خوف پر قائم ہے۔ ہمیں اس مسئلے کے خلاف یکجاں ہوکر توانا فکری اور عملی جدوجہد کی ضرورت ہے کیونکہ جو قوم اپنے لاپتہ افراد کے لیے نہیں بولتی، وہ اپنے مستقبل کے لیے بھی خاموشی قبول کر لیتی ہے۔

آخر میں پمفلٹ میں کہا گیا کہ آئیے، ہم سب مل کر اپنی توانا آوازوں سے اس غافل اور جابر نظام کو للکاریں اور یہ واضح پیغام پہنچائیں کہ جبری گمشدگی ایک ناقابلِ قبول جرم ہے۔ اس ریاستی جبر کو کسی بھی صورت نارملائز نہیں بنایا جا سکتا۔ بلوچ قوم اپنے اسیران اور لاپتہ افراد کو بھولنے کے لیے تیار نہیں، اور نہ ہی ان کی بازیابی کے لیے جاری جدوجہد سے دستبردار ہوگی۔ ان کی رہائی اور واپسی کے لیے یہ جدوجہد اب ایک اجتماعی عہد بن چکی ہے، جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہر لاپتہ فرد اپنے خاندان اور اپنے لوگوں کے درمیان واپس نہیں آ جاتا۔”

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article