پاسداران انقلاب کا ایران پر حملہ کرنے والے امریکی ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

ایرانی شہر بندر عباس کے قریب امریکی فضائی حملے کے رد عمل میں پاسداران انقلاب نے اُس امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔

پاسداران انقلاب کا بیان خبر رساں ادارے تسنیم نے شائع کیا۔ اس کے مطابق ’آج امریکی فوج کی جانب سے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب فضائی حملے کے بعد، صبح چار بج کر 50 منٹ پر اُس امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تھا۔‘

خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’یہ جواب ایک سنجیدہ تنبیہ ہے تاکہ دشمن جان لے کہ جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، اور اگر اسے دہرایا گیا تو ہمارا رد عمل زیادہ فیصلہ کن ہو گا۔ اس کے نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر ہو گی۔‘

امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا پاسداران انقلاب کا بیان کویت کی فوج کے اس بیان کے ساتھ ہی سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’کویت کا فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پاسداران انقلاب کا بیان کردہ حملہ اور کویت کے بیان کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان، سینٹکام، نے بھی جمعرات کی صبح ایک بیان میں کہا کہ اس نے چار ایرانی ڈرونز اور ایک ڈرون لانچ کرنے کے مقام کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام نے اس حملے کو اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی بیان کیا تھا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے لکھا تھا کہ ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جسے انتباہی فائرنگ کر کے واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔

کچھ دیر پہلے رپورٹ کیا گیا تھا کہ امریکہ نے تین دنوں کے دوران ایران پر دوسرا حملہ کیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ جسے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی قرار دے رہی ہے۔

اب اس حوالے سے ایران کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔

انڈیا کے شہر ممبئی میں ایرانی قونصل خانے کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا: ’(خبر رساں ادارے) تسنیم سے بات کرنے والے ایک با خبر فوجی ذریعے کے مطابق ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔‘

بیان کے مطابق ایران کی بحریہ نے انتباہی فائرنگ کی اور جہاز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

ایرانی قونصل خانے کی پوسٹ میں درج کیا گیا ہے کہ ’امریکی فوج نے بندر عباس کے قریب ایک غیر آباد علاقے پر فائرنگ کی۔ علاقے میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں اسی واقعے سے منسلک تھیں۔‘

ایکس پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ان واقعات کے بعد امریکی وزارت خزانہ نے آبنائے خلیج فارس اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں اس ادارے کے قیام کو پاسداران انقلاب کی جانب سے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز بند کیے جانے اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے بعد جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کے لیے اس ادارے کو قائم کیا تھا۔

ایک بیان میں آبنائے خلیج فارس اتھارٹی نے آبنائے ہرمز میں ’نگرانی کے دائرہ کار‘ کا نقشہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس علاقے میں آمد و رفت ’اس ادارے کے ساتھ ہم آہنگی سے مشروط‘ ہے۔

اس بیان کے مطابق یہ دائرہ کار آبنائے کے مشرق میں ’ایران کے کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات کے جنوبی فجیرہ کو ملانے والی لکیر‘ سے لے کر مغرب میں ’ایران کے جزیرہ قشم کے آخری حصے اور متحدہ عرب امارات کے ام القیوین کو ملانے والی لکیر‘ تک پھیلا ہوا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article