بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (HRF) نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری، غیر قانونی ٹرائل اور جیل سے لکھے گئے خط کے تناظر میں ایک تفصیلی رپورٹ "Dispatches from Detention” (قید خانے سے پیغامات) کے عنوان سے جاری کر دی ہے۔
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پر قائم سیاسی بنیادوں پر مبنی تمام جھوٹے مقدمات ختم کر کے انہیں فوری اور بلا مشروط رہا کیا جائے اور قید کے دوران ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
ایچ آر ایف (HRF) نے 30 اکتوبر کو منائے جانے والے "اسیرانِ سیاست کے عالمی دن” (International Day of Political Prisoners) سے قبل ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں بلوچ اقلیت کی پرامن سیاسی و حقوقی جدوجہد کی پاداش میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں سے سیاسی انتقام کے تحت دو بار عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
ایچ آر ایف کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو مارچ 2025 میں ایک پرامن دھرنے سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک دن قبل مظاہرے پر فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تین افراد کے قتل کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔ ان کے ٹرائل میں قانونی تقاضوں اور حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں؛ انہیں عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کے بجائے جیل کے اندر سے صرف ویڈیو لنک کے ذریعے نام نہاد کارروائی کا حصہ بنایا گیا اور صحافیوں و بین الاقوامی مبصرین کو عدالت تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔
کوئٹہ کی ہُدّہ جیل سے لکھے گئے اپنے خط میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنی زندگی کے تجربات، والد غفار بلوچ اور بھائی کی جبری گمشدگیوں اور قید خانے کی سختیوں پر روشنی ڈالی ہے:
"میرے لیے قید کوئی نا آشنا حقیقت نہیں ہے۔ ریاست کے جبر کی سمجھ مجھے اس وقت آئی جب میرے والد غفار بلوچ اسی ہُدّہ جیل میں قید تھے اور میں بچپن میں عید کارڈز کے ساتھ ان سے ملنے آتی تھی۔ ان کے اغوا، بدترین تشدد اور شہادت کے بعد میرے بچپن کا درد ایک قومی ذمہ داری میں بدل گیا۔”
"ہم نے پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اس لیے چنا کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ناانصافی کا مقابلہ سچ، اجتماعی طاقت اور انسانی وقار سے کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کی ہم نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ بی بی بوبلوچ، گل زادی بلوچ سمیت ہمارے ساتھی جیلوں میں بند ہیں جبکہ نظر ماری بلوچ جیسے رفقا کو جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔”
"ایک ایسا ٹرائل کبھی بھی حقیقی انصاف فراہم نہیں کر سکتا جہاں ملزم کو کارروائی سے باہر رکھا جائے، ثبوتوں پر معترض ہونے کا موقع نہ دیا جائے اور قانونی کونسل سے مشورے سے محروم رکھا جائے۔”
"جیل کی دیواریں افراد کو تو قید کر سکتی ہیں لیکن وہ آزادی، وقار اور انصاف کی خواہش کو کبھی بند نہیں کر سکتیں۔ میری ذاتی تکلیف میرے عوام کی تکلیف سے الگ نہیں ہے۔ میری سب سے بڑی فکر یہ نہیں کہ میں کب جیل سے باہر آؤں گی، بلکہ میری فکر یہ ہے کہ کب بلوچستان کے خاندانوں کو اپنے لاپتہ پیاروں کی تلاش ختم ہوگی اور کب ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کو جرم نہیں سمجھا جائے گا۔”
ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے اس موقف کی مکمل تائید کی ہے جس میں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے شواہد کا جائزہ لے اور بلوچ عوام کے ساتھ کھڑی ہو۔