بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین واقعات میں ضلع کیچ کے مختلف علاقوں سے ایک نوجوان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ تین دن قبل حراست میں لیے جانے والے ایک اور نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
ضلع کیچ کے علاقے شئے تگرگھنہ کے رہائشی 24 سالہ دکان دار آدم اکرم ولد اکرم علی کو فرنٹیئر کور (FC) نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق آدم اکرم کو 9 اگست 2026 کی رات تقریباً 3:00 بجے تربت کے علاقے شے تگر گھنہ میں ایف سی چیک پوسٹ کے قریب سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جن کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
ضلع کیچ کے علاقے تمپ (کوہاڑ) کے رہائشی عدیل بلوچ کو پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے کوہاڑ بازار میں ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ دیگر تین نوجوانوں کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
محض تین دن کی گمشدگی کے بعد 23 اکتوبر 2026 کو عدیل بلوچ کی لاش سرنکن، کیچ سے برآمد ہوئی۔
بی وائی سی کے مطابق دورانِ حراست ہلاکت اور لاش ملنے کا یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ لاپتہ افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔
بی وائی سی نے اس واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔