گچک،مشکے،واشک تمام پہاڑی علاقوں میں پاکستانی فوج نے پانی کے چشموں میں زہر ملا دیا،سینکڑوں مال مویشی و جانور مر چکے ہیں۔
تمام پہاڑی علاقوں میں پاکستانی فوج نے زہر ملا دیا ہے، گچک،مشکے،کیل کور،پانی کے قدرتی چشموں میں فوج نے زہر ملا دیا ہے،تمام مال مویشی پانی پینے کے بعد مر رہے ہیں۔
آمدہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے چار اضلاع،ضلع کیچ،ضلع آواران،ضلع پنجگور،ضلع واشک کے پہاڑی علاقے جو ایک دوسرے سے ملتے ہیں میں دوران آپریشن ریاستی فوج نے تمام قدرتی پانی کے چشموں میں زہر ملا دیا ہے،جس سے اب تک مال مویشیوں سمیت سینکڑوں سانپ و دیگر جاندار مر چکے ہیں۔
نمائندہ سنگر کے علاقی نمائندوں کے مطابق اس وقت گچک،وادی مشکے،کیل کور،راغے، کے تمام پہاڑی علاقوں میں پاکستانی فوج نے قدرتی پانی کے چشموں میں زہر ملا دیا ہے،جس سے نہ صرف سینکڑوں کی تعداد میں مال مویشی مر چکے ہیں،بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں دیگر جاندار سانپ و پرندے بھی مرے ہوئے حالت میں پھائے گئے ہیں۔
جبکہ ان تمام پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں بلوچ مالدار بھی آباد ہیں جو مال مویشی پھال کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں،پینے کے پانی کے قدرتی ذرائع کو بھی پاکستانی فوج نے زہر ملا کر انکی زندگی کو سخت حالت میں ڈال دیا ہے۔
گچک کے ایک علاقے سے ایک بلوچ بزرگ نے نمائندہ سنگر کو بتایا کہ آپریشن جاری ہے، سینکڑوں کی تعداد میں لوگ غائب ہیں اور ہم کربلا جیسی صورت حال سے دوچار ہیں۔
اب تو صورت حال یہ ہے کہ پہاڑوں سے آنے والے پانی کے چشموں میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ جس سے ہمارے سینکڑوں مال مویشی جس میں اونٹ،بھیڑ،بکریاں، سمیت مال براداری کے لیے استعمال ہونے والے گدھے مر چکے ہیں،جبکہ پانیوں کئے چشموں کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں سانپ،پرندے اور دیگر جاندار مردے حالت میں پڑے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئیں ہماری موجودہ حالت خود دیکھیں۔
واضح رہے کہ ان چار اضلاع کے پہاڑی علاقوں میں شدید نوعیت کی آپریشن گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے۔