کردگاپ سے 3 نوجوانوں کی ماورائے عدالت قتل کے بعد لاشیں ورثا کودینے سے انکار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز(وی بی ایم پی ) کے احتجاجی کیمپ میں آج سفیر سمالانی، امان اللہ سالانہ اور عرفان محمد حسنی کے لواحقین نے آکر کہا ہے کہ ان کے پیاروں کو 16 اپریل کو سیکورٹی فورسز نے لڈی دشت، تحصیل کردگاپ سے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد انہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔

لواحقین کے مطابق تینوں افراد کی لاشیں اس وقت سول ہسپتال میں موجود ہیں، لیکن گزشتہ تین دنوں سے ہسپتال انتظامیہ لاشیں ورثا کے حوالے نہیں کر رہی، جس سے خاندان شدید اذیت اور بے بسی کا شکار ہے۔

اہلِ خانہ نے کہا کہ جبری حراست، ماورائے عدالت قتل اور پھر لاشوں کی عدم حوالگی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ لواحقین کے لیے ناقابلِ برداشت ذہنی صدمے کا باعث بھی ہے۔

ان کے مطابق ریاستی اداروں کے ہاتھوں اس طرح کے واقعات بلوچستان میں معمول بنتے جا رہے ہیں، اور انصاف کے دروازے مسلسل بند ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

وی بی ایم پی نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے سلسلے نے درجنوں خاندانوں کو تباہ کیا ہے، اور لاشوں کی عدم حوالگی جیسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

لواحقین نے مطالبہ کیا کہ تینوں افراد کی لاشیں فوری طور پر ان کے حوالے کی جائیں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

Share This Article