کوئٹہ: بی ایم سی گرلز ہاسٹل پر فورسز کاچھاپہ،طالبہ خدیجہ بلوچ جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے پاکستانی فورسز نے بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل پر چھاپہ مار کر خدیجہ بلوچ نامی ایک طالبہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

ساتھی طالبات نے واقعے کے خلاف گرلز ہاسٹل کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے خدیجہ بلوچ کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق انہیں فرنٹیئر کور (FC)، ملٹری انٹیلی جنس (MI) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکاروں نے کوئٹہ کے بی ایم سی ہوسٹل سے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا۔

خدیجہ بلوچ بی ایس نرسنگ کی ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں اور ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کی رہائشی ہیں۔

گرلز ہاسٹل میں مقیم بلوچ طالبات نے احتجاج کے دوران فورسز کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے وہ شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں اور انہیں بلوچ شناخت کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسزکی جانب سے ماورائے آئین و قانون جبری گمشدگیوں میں ہوشربا اضافے کے ساتھ ساتھ اب خواتین کی بڑی تعداد کو اس میں شامل کیا جارہا ہے جو اب تک متعد د خواتین جبری لاپتہ ہیں ۔

Share This Article