ڈاکٹر عبدالعزیز بلوچ کی کتاب "بلوچستان: عالمی طاقتوں کی بساط پر” کی تقریبِ رونمائی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ساحلی اور سی پیک مرکز کہلانے والی شہر گوادر میں جیوز کے زیرِ اہتمام 15 اپریل 2026ء کی شام کو گوادر پریس کلب میں ڈاکٹر عبدالعزیز بلوچ کی کتاب "بلوچستان: عالمی طاقتوں کی بساط پر” کی پُروقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔

اس تقریب کی صدارت جناب خدابخش ہاشم (سرپرست اعلیٰ آرسی ڈی سی و سابق ڈی ای او) نے کی، جبکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

مہمانانِ گرامی میں وہاب مجید (لکھاری و ضلعی ایجوکیشن آفیسر)، سعید فیض (انسانی حقوق کے علمبردار و صدر مکران بار کونسل)، خداداد واجو (صدر گوادر ماہیگیر اتحاد)، نور محسن (صدر گوادر پریس کلب)، اسماعیل بلوچ (سماجی و سیاسی رفیق و سابق چیئرمین پیشکان)، ڈاکٹر راحیلہ شے (سوشل میڈیا انفلوئنسر و کزن فیملی ممبر) اور ڈاکٹر صدف عزیز (بیٹی، جن کا آڈیو پیغام تقریب میں سنایا گیا) شامل تھے۔

نظامت کے فرائض کے بی فراق نے انجام دیے۔

تقریب میں محبانِ کتاب اور اہلِ فکر نے ڈاکٹر عبدالعزیز بلوچ کی علمی خدمات، فکری جہد اور زبان و سیاست کے روشن کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

شرکاء نے کتاب پر سیر حاصل تبصرے اور تجزیے پیش کیے، جسے گوادر پریس کلب میں اپنی نوعیت کا منفرد اور معنی خیز پروگرام قرار دیا گیا۔

تقریب میں شریک افراد نے کہا کہ یہ کتاب بلوچستان کے سیاسی و عالمی تناظر کو سمجھنے کے لیے ایک اہم علمی حوالہ ہے۔

ڈاکٹر عبدالعزیز بلوچ اپنی زندگی کے آغاز سے اختتام تک ایک سیاسی کارکن رہے۔ وہ میڈیکل آفیسر کے منصب پر فائز رہے لیکن سرکاری پروٹوکول اور تشخص نے کبھی ان کے نظریاتی عزم کو متاثر نہیں کیا۔ جس طرح انہوں نے طب کے شعبے میں انسانیت کی خدمت کی، اسی طرح سیاست میں بھی ایک جہدکار کے طور پر سمان کے ساتھ سفر کیا۔

ان کی زندگی کا پس منظر ایک کمیٹڈ مارکسسٹ اور انسانیت اساس کارکن کا تھا، جو اپنے نظریے کے جلو میں انسان اور انسانیت کی توثیق کرتے رہے۔ ان کے نزدیک سیاست اور سماج محض وقتی ضرورت کا آلہ نہیں بلکہ ایک مستقل جدوجہد تھی، جس کے ذریعے وہ ایک برتر اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل چاہتے تھے۔

انتشار خیالی اور بے سمتی کے اس عہد میں، جہاں بائیں بازو کی سیاست کو این جی او کلچر اور استعماری حربوں نے کمزور کر دیا، ڈاکٹر عبدالعزیز بلوچ نے اپنے نظریے کے ساتھ زندگی بسر کی اور اسے عملی طور پر اپنایا۔ وہ ان سیاسی کارکنوں سے مختلف تھے جو جدوجہد کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں؛ ان کا کردار کمٹمنٹ اور قربانی کی ایک روشن مثال رہا۔

اگر مارکسسٹ زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ڈاکٹر عبدالعزیز بلوچ ایک ٹاورنگ کریکٹر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی روشنی بلا رنگ و نسل، مذہب، ذات پات اور قوم قبیلہ ہمیشہ انسانیت کو جبر، تشدد اور استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے منور کرتی رہی۔

وہ ایک سیاسی و سماجی جہدکار، مارکسسٹ، معالج، کمیٹڈ کارکن، ترقی پسندی اور روشن خیالی کا پیکر دانشور اور لیکھک تھے۔

Share This Article