بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کوبہیمانہ ،علم، قلم اور شعور پر ریاستی جبر کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نامور ادیب، مفکر اور استاد پروفیسر غمخوار حیات بلوچ کا سفاکانہ قتل بلوچستان میں جاری اس پالیسی کا تسلسل ہے، جہاں علم، قلم اور شعور کو ریاستی جبر کے ذریعے خاموش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اندوہناک واقعہ محض ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ بلوچ قوم کی فکری بنیادوں، مادری زبانوں کی ترویج اور اجتماعی قومی شعور پر ایک سفاکانہ حملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر غمخوار حیات صرف ایک استاد نہیں تھے، بلکہ روشن خیالی کی ایک شمع اور مادری زبان کے امین تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نوجوان نسل کی فکری و شعوری آبیاری اور براہوئی زبان و ادب کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہیں دن دہاڑے نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جابر و استحصالی قوتیں بلوچ قوم کے قلم اور شعور سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔ اساتذہ اور دانشوروں کی ٹارگٹ کلنگ کا مقصد بلوچ معاشرے کو فکری طور پر بانجھ کرنا اور خوف کی ایسی فضا قائم کرنا ہے کہ جو بھی اپنی سرزمین، اپنے لوگوں، حق اور شعور کی بات کرے، اسے خاموش کر دیا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کی تاریخ اس المیے کی گواہ ہے کہ یہاں دہائیوں سے بلوچ نسل کشی جاری ہے، اور اس عمل میں بلوچ قوم کے علمی و فکری سرمایہ، اساتذہ، دانشور، صحافی، طلبہ اور سیاسی کارکن، ایک منظم پالیسی کے تحت نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ پروفیسر صبا دشتیاری سے لے کر پروفیسر رزاق اور اب پروفیسر غمخوار حیات تک، یہ بلوچ دانش اور شعور کا مسلسل قتلِ عام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پروفیسر غمخوار حیات کی آواز کو جسمانی طور پر خاموش کر دیا گیا ہے، مگر ان کا علمی ورثہ، ان کی تحریریں اور ان کا شعور بلوچ قوم اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ زندہ رہے گا۔