بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں گزشتہ چار روز سے جاری سخت کرفیو کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں، جبکہ مقامی آبادی نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو ایک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق شدید گرمی کے دوران بازاروں اور سڑکوں کی بندش سے خوراک اور روزمرہ ضروریات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ شیر خوار بچوں کے لیے دودھ اور دیگر بنیادی اشیاء کی عدم دستیابی نے والدین کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ طویل کرفیو کے باعث متعدد گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی ہے، جبکہ مویشیوں کے لیے چارہ بھی ختم ہو چکا ہے، جس سے لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔
رہائشیوں کے مطابق سخت پابندیوں کی وجہ سے طبی مراکز، ہسپتال اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں، جس سے مریضوں، طلبہ اور عام شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔
عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کرفیو میں نرمی کی جائے تاکہ شہری خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل کر سکیں۔