کوئٹہ اور مستونگ سے تعلق رکھنے والے تین خاندانوں نے اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے حوالے سے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
ان خاندانوں کے سربراہان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کئی ماہ سے لاپتہ ہیں اور تلاش کے باوجود ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
کوئٹہ کے علاقے کلی اسماعیل کے رہائشی عبدالغفار بلوچ نے بتایا کہ ان کا 22 سالہ بیٹا محمد قاسم گزشتہ چار ماہ سے گھر سے غائب ہے۔
انہوں نے کہا کہ کافی تلاش کے باوجود اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بیٹے کا کسی مسلح تنظیم سے کوئی تعلق ہے تو وہ اور ان کا خاندان اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔
اسی طرح مستونگ کے علاقے اسپلنجی کے رہائشی عبدالباقی نے کہا کہ ان کا 17 سالہ بیٹا نور حسنی گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تلاش کے باوجود اس کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے بھی کہا کہ اگر ان کے بیٹے کا کسی مسلح تنظیم سے تعلق ثابت ہوتا ہے تو ان کا اور ان کے خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
دریں اثنا کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی کے رہائشی نظام الدین نے کہا کہ ان کا 16 سالہ بیٹا عبدالواسع گزشتہ سات ماہ سے گھر سے غائب ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل تلاش کے باوجود ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
انہوں نے بھی واضح کیا کہ اگر ان کے بیٹے کا کسی مسلح تنظیم سے تعلق ہوا تو وہ اس سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے شکار لواحقین کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے اور انہیں اپنے لاپتہ پیاروں سے اظہارِ لاتعلقی کے لیے پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ماضی میں بلوچستان بھر سے متعدد خاندانوں نے ایسے دباؤ کے تحت پریس کانفرنسز کیں اور اپنے لاپتہ عزیزوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔
یہ رجحان انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کے نزدیک نہ صرف غیر قانونی بلکہ غیر انسانی بھی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا جاتا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے بجائے مزید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔