بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی ،گوادر اور واشک سے پاکستانی کے ہاتھوں پولیس اہلکار سمیت 4 افراد جبری لاپتہ ہوگئے جبکہ ایک بازیاب ہوگیا۔
ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں سی ٹی ڈی نے دو افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر لاپتہ کردیا ہے۔
جبری گمشدگی کا شکار ہونے والوں میں ایک لیویز اہلکار ہے جسے حال ہی میں پولیس میں ضم کردیا گیا جس کی شناخت سراج عرف بگا ولد بنا بگٹی کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ دوسرے شخص کی شناخت گل محمد ولد زر خان حمزانی بگٹی کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے لحاظ سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں چوکیدار ہے۔
اسی طرح واشک اور گوادر اضلاع سے دو بلوچ نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا، جبکہ ایک لاپتہ نوجوان بازیاب ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 17 سالہ شہاب بلوچ ولد حاجی عطا اللہ، جو کہ میٹرک کا طالبعلم ہے، کو 13 مئی 2026 کو دوپہر تقریباً 2 بجے ضلع واشک کے علاقے ناگ میں ان کے گھر سے ایم آئی اور پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
اہل خانہ کے مطابق فورسز نے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
دوسری جانب 18 سالہ یحییٰ بلوچ ولد امیر بخش، جو پیشے کے لحاظ سے ماہی گیر ہیں، کو 11 مئی 2026 کی شب تقریباً 1:30 بجے گوادر کے علاقے جیونی پانوان، ان کے گھر سے ایم آئی اور ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
ادھر ڈاکٹر ظہیر ولد یعقوب، سکنہ ہوشاب، کیچ، جنہیں 11 مئی 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا، 12 مئی 2026 کو کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ سے بازیاب ہو گئے ہیں۔ اہل خانہ نے ان کی رہائی کی تصدیق کی۔