بلوچستان کے علاقے مستونگ اور نوشکی میں مسلح افراد کی ناکہ بندی کے دوران 4پروفیسرز ،لیکچرار اور ڈرائیور کی مبینہ اغوا کا واقعہ سامنے آیا ہے جبکہ اس دوران فورسز پر حملے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ضلع مستونگ میں گوادر انیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت 4 افراد کی مبینہ اغوا کی اطلاعات ہیں ۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد، لیکچرار شکیل احمد اور ان کے ڈرائیور کو گزشتہ شام مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا۔
اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے سڑک پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ مغوی افراد کی گاڑی کو روکنے کے بعد انہیں اپنے ہمراہ نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
ایک سرکاری ذریعے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال کسی نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دوسری جانب نوشکی میں گذشتہ شب سرمَل کے علاقے میں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ جاری رکھا، اس دوران مرکزی شاہراہ پاکستانی فورسز کی دو گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق حملے کے نتیجے میں فورسز کی ایک گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ متعدد اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دریں اثناء نوشکی، جورکین کے مقام پر بھی مسلح افراد نے ناکہ بندی کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی۔
خیال رہے گذشتہ نوشکی سے متصل شیخ واصل کے مقام پر ہونے والے ایک حملے میں پاکستانی فوج کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب فورسز معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کے قافلے کو سیکورٹی فراہم کررہے تھے کہ مسلح افراد نے مذکورہ قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا، حملے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ ڈرائیوروں کے جانی نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔
دریں اثناء دالبندین میں دوران ناکہ بندی مسلح افراد نے “سیاہ دک” کاپر پروجیکٹ سے منسلک تین افراد اور ریکوڈک پروجیکٹ کی ایک گاڑی کو بھی تحویل میں لے لیا۔
یہ واقعات ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب گذشتہ روز چمالنگ میں ایک بم دھماکے اور مسلح حملے میں پاکستان فوج کے میجر رینک کے افسر سمیت آٹھ اہلکار ہلاک ہوئیں۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے۔