بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( بی ایس او) شال زون نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بورڈ میں جانبداری، مخصوص اداروں کو نوازنے اور بلوچ و پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو دیوار سے لگانے کی استحصالی پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔
جاری بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے حالیہ میٹرک امتحانات کے نتائج نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی نظام میرٹ، برابری اور انصاف کے بجائے طبقاتی تعصب، سفارشی کلچر اور مخصوص اداروں کی سرپرستی کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ بی ایس او شال زون اس کھلی ناانصافی اور بلوچ طلبہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
بی ایس او کے مطابق پورے بلوچستان کے ہزاروں ذہین، محنتی اور باصلاحیت طلبہ و طالبات کی موجودگی کے باوجود ٹاپ ٹوئنٹی میں صرف چند مخصوص اداروں، خصوصاً بی آر سی لورالائی، کیڈٹ کالجز اور اشرافیہ کے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو شامل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امتحانی نظام کو بااثر طبقات کے مفادات کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ محسوس ہوتا ہے، جس کے ذریعے بلوچ اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو شعوری طور پر تعلیمی دوڑ سے باہر دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں، دیہی اسکولوں، سرکاری تعلیمی اداروں اور اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ مسلسل امتیازی رویہ رکھا جا رہا ہے۔ ان طلبہ کی محنت، قابلیت اور خوابوں کو کم نمبرز دے کر کچل دیا جاتا ہے جبکہ پہلے سے وسائل، طاقت، سفارش اور مہنگے اداروں تک رسائی رکھنے والے طلبہ کو غیر معمولی نمبرز دے کر آگے لایا جاتا ہے۔ اس طرح کا جانبدارانہ نظام دراصل غریب اور بلوچ طلبہ کے مستقبل پر حملہ ہے، کیونکہ انہی نمبرز کی بنیاد پر کالجوں میں داخلے، اسکالرشپس اور اعلیٰ تعلیمی مواقع دیے جاتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایس او شال زون واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے بلوچ طلبہ کو تعلیم سے دور رکھنے، احساسِ محرومی میں مبتلا کرنے اور انہیں دوسرے راستوں کی طرف دھکیلنے کے لیے ریاستی و حکومتی مشینری طویل عرصے سے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں جاری یہ استحصالی اور طبقاتی پالیسی بلوچ نوجوانوں کے خلاف ایک خاموش سازش کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں میرٹ کو قربان کر کے مخصوص طبقوں کو نوازا جاتا ہے جبکہ محروم قومیتوں کے بچوں کو مسلسل دیوار سے لگایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں، جہاں پہلے ہی ہزاروں بچے تعلیمی سہولیات، اساتذہ، بنیادی ڈھانچے اور وسائل کی کمی کا شکار ہیں، وہاں امتحانی بورڈ بھی انصاف فراہم کرنے کے بجائے تعصب اور ناانصافی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ بلوچ طلبہ کی ذہنی، تعلیمی اور سیاسی محرومی کو مزید گہرا کرنے والی ایسی پالیسیاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
بی ایس او شال زون خبردار کرتی ہے کہ اگر بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ جاری اس ناانصافی، جانبداری اور استحصالی تعلیمی پالیسی کا فوری خاتمہ نہ کیا گیا تو طلبہ میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور ردعمل کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور حکومت پر عائد ہوگی۔ بلوچستان کے نوجوان اپنے حقِ تعلیم، برابری اور انصاف کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور تعلیمی میدان میں جاری اس طبقاتی و استحصالی نظام کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔