جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا طویل کیمپ 6164 ویں روز میں داخل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ 6164ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر سردار علی محمد قلندرانی نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

وی بی ایم پی کے مطابق سردار علی محمد قلندرانی کے تین جوان بیٹے عتیق الرحمان، خلیل الرحمان، وسیم الرحمان سمیت قلندرانی قبیلے کے 16 افراد جبری طور پر لاپتہ ہیں۔

چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ 2013 میں سپریم کورٹ کی سطح پر سردار قلندرانی کے بیٹوں سمیت قبائل کے دیگر افراد کی جبری گمشدگی ثابت ہوئی تھی اور عدالتِ عظمیٰ نے متعدد بار ان کی بازیابی کے احکامات جاری کیے، تاہم آج تک ان عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے واضح احکامات کے باوجود قلندرانی قبائل کے جبری لاپتہ افراد کی عدم بازیابی اور انہیں ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم نہ کرنا آئین، قانون اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

نصراللہ بلوچ نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ قلندرانی قبائل کے جبری لاپتہ افراد سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق رویہ اختیار کریں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article