بلوچستان کےضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے مختلف نواحی علاقوں سے 3 نوجوانوں کی لاشیں برآمدہوئی ہیں جن میں 2 کی جبری گمشدگی کی تصدیق ہوگئی ہے ۔
تربت کے ملائی نگور تحصیل دشت سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جسے بعد ازاں ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کردیا گیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق لاش کی شناخت ماسٹر عابد ولد محمد عمر سکنہ کھڈان دشت کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ماسٹر عابد کو تقریباً تین ہفتے قبل دشت ڈڈھے کے علاقے سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔
ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی ہے۔
پولیس اور متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ۔
اسی طرح ایک لاش تربت کے بانک چڑھائی پسنی روڈ پر برآمد ہوئی ہے جسے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت اسکول دستاویزات کی مدد سے جان محمد ولد قادر بخش سکنہ گومازی تمپ کے نام سے ہوئی ہے جو آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے۔
لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
علاوہ ازیں ضلع کیچ کے علاقے زامران سے تعلق رکھنے والے برہان الدین ولد محمد نعیم کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق برہان الدین کو 28 اکتوبر 2025 کو شام تقریباً 6:30 بجے ڈیتھ اسکواڈز اور ایم آئی اہلکاروں نے تربت کے علاقے بگ میری میں واقع ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق چھ ماہ اور 14 دن تک اہل خانہ اذیت، بے یقینی اور امید کے عالم میں ان کی واپسی کے منتظر رہے، مگر انصاف کے بجائے انہیں برہان الدین کی تشدد زدہ لاش موصول ہوئی۔
بی وائی سی کے مطابق لاش پر بہیمانہ تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ برہان الدین کو ریاستی تحویل میں رکھا گیا، کبھی کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے گئے، اور بعد ازاں انہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔
ایک بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ قوم کے خلاف جاری جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور ماورائے عدالت قتل کی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ غریب بلوچ نوجوان بھی محفوظ نہیں جو صرف اپنے خاندان کی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
تنظیم نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور فوری اقدامات کریں، کیونکہ بلوچستان کے لوگ روزانہ جبر، تشدد اور نسل کشی جیسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔