کراچی: عورت مارچ میں بی وائی سی کی شرکت پر پابندی پر سمی بلوچ کا سخت ردعمل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کراچی میں عورت مارچ کے لیے حکومتِ سندھ کی جانب سے مشروط اجازت جس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی شرکت پر پابندی شامل ہےپر بی وائی سی کی مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور اسے بلوچ خواتین کے ساتھ کھلا امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔

سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان کو پاکستان کا حصہ صرف اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ اس کی زمین سے وسائل، ذخائر اور معدنیات نکالی جاتی ہیں، لیکن ایک بلوچ کو کبھی برابر کا پاکستانی شہری نہیں سمجھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ بلوچوں کو ریاست کے خلاف کر رہی ہیں یا ‘دشمن ممالک’ بلوچ نوجوانوں کو اکسا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بلوچوں کو ریاست سے دور کرنے کے لیے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں۔ ریاست خود اپنی نوآبادیاتی طرز کی پالیسیوں کے ذریعے روزانہ بلوچوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ انسان تو دور کی بات، برابر کے شہری بھی نہیں سمجھے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ اور جب ایک ایسے مارچ میں، جہاں پاکستان بھر کی محروم طبقات کی خواتین اپنے حقوق، آزادی اور برابری کے لیے جمع ہوتی ہیں، صرف بلوچ خواتین کی شرکت پر پابندی لگائی جاتی ہے، تو یہ پیغام مزید واضح ہو جاتا ہے۔

سمی دین بلوچ کے مطابق عورت مارچ جیسے پلیٹ فارم پر بلوچ خواتین کی شرکت روکنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچوں کو برابر کا شہری تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، اور یہ رویہ بلوچ معاشرے میں مزید بے دخلی اور احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article