بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگچر میں جمعے کے روز نامعلوم مسلح افراد نے بلوچستان پولیس کے ڈی ایس پی محمد یوسف، ولد محمد کریم، کو ان کے سیکیورٹی گارڈ سمیت اغوا کر لیا۔
مقامی حکام کے مطابق دونوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ معمول کے گشت پر تھے۔
واقعے کے بعد سے ڈی ایس پی اور ان کے گارڈ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم تاحال اغوا کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران مسلح کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز گوادر کے ساحلی تحصیل جیونی میں مسلح افراد نے پاکستان کوسٹ گارڈ کے 2 اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا اور ان کے اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ اغوا کیے گئے ڈی ایس پی کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔