ممتاز بلوچ دانشوراوربلوچ قومی تحریک کے دیرینہ رفیق میر محمدعلی ٹالپورنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک جوابی ٹویٹ میں کہا ”ریاستی تشدد لوگوں کو جوابی تشدد کرنے پر مجبور کرتا ہے۔“
انہوں نے مزید لکھا کہ ”یہ ناانصافی ہوگی کہ ہم گھروں میں محفوظ رہ کر دوسروں پر الزام لگائیں۔ ریاستی ناانصافیوں اور تشدد کے شکار متاثرین پر تشدد کا الزام غیر منصفانہ ہے۔ تشدد کوئی بھی نہیں چاہتا سب پر الزام نہ لگائیں۔“
واضح رہے کہ 13اگست کو کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پاکستانی فوج نے کراچی یونیورسٹی کے نوجوان طالب علم کو والدین کے سامنے فائرنگ کرکے قتل کردیاتھا،اس واقعے پر بلوچ قوم،انسانی حقوق کے کارکن اور دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف شدیدردعمل میں دیکھنے میں آرہاہے۔
شدید قومی ردعمل کے بعد سوشل میڈیا میں اب چند اکاؤنٹس سے بلوچ جہدکاروں کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیاگیا ہے،آج ایک ایسی ٹویٹ میں ایسے واقعات بلوچ مسلح جدوجہد کے نتائج قراردینے کی کوشش کی گئی جس پر معروف بلوچ دانشور نے انہیں جواب دیا۔