بلوچ آزادی پسند اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ریاستی مراعات کی آفر پراپنے ایک تازہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ
”ہم آپ کو جام یوسف کی طرح وزیر بنائیں گے یا یورپ چلے جائیں، ہم آپ کے سفر کا انتظام کریں گے، بصورت دیگر ہماری گولی زندگی بھر آپ کا پیچھا کرے گی۔ میں نے آخری آپشن کا انتخاب کیا اور کئی بار قریب سے بچ گیا۔ میں اس گولی کا انتظار کر رہا ہوں، ورنہ بلوچ قوم میرے میت کو پتھر مارے گی۔
آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کا یہ ٹویٹ اہم معنی رکھتا ہے،سوشل میڈیا میں انکا ٹویٹ تیزی سے وائرل ہوا ہے۔
بلوچ نوجوانوں کے مطابق ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ قومی جہد کے اہم ستون ہیں اور انہیں دوران حراست سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ بازیاب ہوئے تو وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھے مگر وہ مرد آہن کی طرح ڈٹے رہے اور انہوں نے بلوچ قومی جہد کو اہم دشا دیا۔
یقیناانکی یہ ٹویٹ اس طرف اشارہ کرتی ہے جب وہ زندان میں تھے اور ان کو ریاست کی جانب سے انہیں آسائش مراعات کی آفر کی گئی۔ اور انکا ٹویٹ اس طرف اشارہ ہے کہ جو بلوچ قوم پرستی کے نام پر پاکستانی پارلیمنٹ میں جاتے ہیں اور انکے مرنے کے بعد قوم انکے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے رہائی کے بعد سخت جدوجہد کی اور وہ مقبوضہ بلوچستان کے ہر علاقے میں آزادی کا پیغام لے کر گئے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ موجودہ قومی آزادی کی جہد میں انکی خدمات طلسماتی ہیں۔
واضع رہے کہ آزادی کی تحریکوں میں شامل لیڈر شپ اور کارکنان کو بڑی بڑی مراعات و آسائش کی آفر کی جاتی ہے اور بہت سے ایسے ورکرز یا لیڈر ہوتے ہیں جو ان آسائش و مراعات کی طلمسی جام میں پھنس جاتے ہیں اور اپنی راہیں الگ کرتے ہیں لیکن بعض ایسے کارکنان اور لیڈر ہوتے ہیں جو تحریکوں میں جذبات سے ہٹ شعوری بنیاد پر وابستہ ہوتے ہیں اور ان کا ایک پختہ نظریہ ہوتا ہے جسے کسی قسم کی بھی آسائش و مراعات ختم نہیں کرسکتا۔