تعلیمی اداروں میں طلبہ کو درپیش مسائل تشویشناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہیں،بساک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، کوئٹہ زون کی جانب سے جاری بیان میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو درپیش مسائل تشویشناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہیں اور ہاسٹلز میں طلبہ کو ہراساں کیا جارہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں حالات دن بدن مخدوش ہوتے جارہے ہیں، جہاں آئے روز کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں ایک جانب بلوچ نوجوانوں کی تعلیمی بہتری اور ترقی کے دعوے کیے جاتے ہیں، تو دوسری جانب طلبہ کی جبری گمشدگیوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پہلے تو صرف طلبہ اس غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے تھے اور طالبات نسبتاً محفوظ تھیں، لیکن اب صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں طالبات بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ وہ نہ صرف غیر محفوظ ہیں بلکہ اپنے تعلیمی اداروں اور ہاسٹلز میں بھی جبری گمشدگی اور ہراساں کیے جانے جیسے واقعات کا سامنا کر رہی ہیں۔

بساک کے مطابق بلوچ روایات میں چادر اور چاردیواری کے تقدس کو انتہائی اہمیت حاصل ہے اور خواتین کی عزت و احترام کو مقدم سمجھا جاتا ہے، جسے پامال کرنا روایات کو روندنے کی مترادف ہے۔ گزشتہ دنوں بی ایم سی نرسنگ ہاسٹل سے بلوچ طالبہ کی جبری گمشدگی پر ہمیں گہری تشویش ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے تقدس کا خیال رکھا جائے اور وہاں مداخلت سے گریز کیا جائے تاکہ ایک پُرامن تعلیمی ماحول برقرار رہ سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ طالبہ کی جبری گمشدگی ایک قابلِ مذمت عمل ہے جس کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکامِ بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں فی الفور رہا کیا جائے تاکہ طالبات بنا کسی رکاوٹ و مشکلات کے اپنے امتحانات میں حصہ لے سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نرسنگ کے ان تمام طلبہ کی حمایت کرتے ہیں جو اپنی ساتھی طالبہ کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ ہم نرسنگ کالج کی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ کل سے شروع ہونے والے امتحانات کو ملتوی کر کے ری شیڈیول کیا جائے، تاکہ طلبہ اپنی ساتھی کی بازیابی کی جدوجہد پر توجہ دے سکیں اور بعد ازاں پُرسکون ذہن کے ساتھ اپنے امتحانات دے سکیں۔

Share This Article