شہید ڈاکٹر منان بلوچ نے کی یہ تحریر اکتوبر2013 ماہنامہ سنگر کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔آج شہید رزاق بلوچ کی ساتویں برسی پر اسے پھر شائع کیا جا رہا ہے۔
یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کب حاجی رزاق کے بارے میں سنا تھا البتہ آپ سے پہلی بارملاقات 20جون2008ء کوآپ ہی کے گھر میراں ناکہ لیاری میں ہوا،کونسل سیشن کی تیاریوں کے سلسلے میں کراچی دمگ کونسل کا اجلاس وہاں پر بلایا گیا تھا اور میں بطور رکن سینٹرل کمیٹی اس اجلاس میں موجود تھا توحاجی رزاق بھی اُس اجلاس میں موجود خاموشی سے پوری کاروائی سنتا رہا۔ اور اسی اجلاس کے آخر میں آپ نے بلوچ قومی تحریک، بلوچ نیشنل موومنٹ کی تاریخ اور کراچی میں بلوچ قوم کے مسائل اور پارٹی مشکلات پر تفصیلی روشنی ڈالی جس سے مجھ سمیت پوری اجلاس کوایک آگاہی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی احساس ہوا کہ ہم ایک زندہ تاریخ کے رو برو بیٹھے ہیں۔ظاہر ہے آپ کونسلر بھی منتخب ہوگئے۔میں اور چیرمین خلیل اس دوران کونسل سیشن کی تیاریوں میں وہاں پر موجود تھے اور حاجی رزاق اپنی بائیسکل پر روز ہمارے ہاں آتے۔14,15,16جولائی 2008ء میں کونسل سیشن کا انعقاد ہوا۔بہت سارے مسائل پر ہنگامہ خیز بحث و مباحثہ کے دوران آپ انتہائی خاموشی سے تمام ممبران کے دلائل سننے کے بعد آخر میں چیئرمین کی اجازت لے کر اپنی بات کو مدلل انداز میں پیش کرتے، کونسل کو مطمن کرتے، تین دن کے ہنگا مہ خیز بحث و مباحثہ کے بعد پارٹی انتخابات کا مرحلہ آیا توحاجی رزاق بھی امیدوار بنے اور سینٹرل کمیٹی کے رکن منتخب ہونے کے بعدآپ کراچی میں پارٹی کو منظم کرنے کے علاوہ ہر اجلاس میں اپنی موجودگی کو یقینی بناتے، پارٹی ذمہ داریوں کو ایک کل وقتی انقلابی کی طرح نبھاتے رہے،چونکہ کراچی میں مہاجر، پشتون، پنجابی اور کئی دوسرے اقوام کی مخلوط آبادی ہے،آئی ایس آئی ان تمام گروہوں کو آپس میں الجھانے اور اپنی مفادات کی خاطر استعمال کرتا آرہاہے۔ جس کی وجہ سے بلوچ قوم اکثریت میں ہونے کے باوجود ہمیشہ سے معتوب رہا ہے۔اسی طرح بلوچوں کے قومی یکجہتی کو توڑنے اور ان میں قومی احساس کو زائل کرنے کی خاطر منشیات فروش، اغواء کاروں کے گروہیں تشکیل دے کر انہیں بلوچ قومی تحریک آزادی سے وابستہ پارٹیوں کی مدمقابل لا کھڑاکیا، اور یہ قومی پارٹیوں کے نشوونماء میں بھی بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔اس دوران بہت سارے پارٹی میں گھس چکے تھے۔ اور ان کی پارٹی میں موجودگی حاجی رزاق جیسے مدبر اور دانشور کے لئے مشکلات کا سبب بنا کیونکہ آپ بی این ایم کو دنیا کی ایک انقلابی پارٹی بنانا چاہتے تھے۔جس کے لئے علمی سرکلز اور تنظیمی مضبوطی، تنقید وخود تنقید کو انتہائی ضروری عوامل سمجھتے تھے جبکہ دوسرا گروہ صرف اس نام پر اپنے کاروبار کو وسعت دینا چاہتے تھے،لیکن حاجی رزاق نے ان تمام مصائب و مشکلات کا بامردی سے مقابلہ کیا اور پارٹی کو ملیر،لیاری وغیرہ میں منظم کیا۔ اسی دوران۹ اپریل ۹۰۰۲ء کو چیرمین غلام محمد بلوچ، لالا منیر اور شیر محمد کی شہادت نے پارٹی کو ایک خطرناک بحران سے دوچار کیا۔باقی دوستوں کے ساتھ حاجی رزاق کی تدبر، فہم وفراست اور شبانہ روز محنت کی بدولت پارٹی اپنی تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا،عصاظفرایک ٹولی کے ساتھ پارٹی نشوونماء میں ایک ہمیشہ رکاوٹ رہے،فروعی اختلاف کو بنیاد بنا کر پارٹی کے لئے ہمیشہ مشکلات پیدا کرتے رہے۔۔ لیکن حاجی رزاق ان تمام سازشوں کو دیکھنے، پرکھنے، سمجھنے کے بعد خوب صورت انداز میں حل کر نے کی جتن کرتے۔اور۰۱جولائی ۰۱۰۱ ء کو قلات کے سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی سیشن کا فیصلہ ہوا عصاظفر ایک عرصے سے باہر تھے۔واپس آکر اپنی آٹھ ممبران ِسینٹرل کمیٹی و کابینہ کے ساتھ استعفیٰ دے کربظاہر پارٹی کو دیوار سے لگانے میں کامیاب ہوئے لیکن چیرمین خلیل بلوچ کی بروقت فیصلوں اور حاجی رزاق جیسے مدبر رہنماؤں کی موجودگی نے ان کی اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دی۔جب پارٹی کو اس کیفیت سے نکالنے کیلئے آرگنائزنگ باڈی کی تشکیل ہوا تو حاجی رزاق بطور ممبر آرگنائزنگ کمیٹی اپنا کردار انتہائی موثر طریقے سے ادا کرتے رہے۔اپنی محنتوں کی بدولت اکتوبر ۰۱۰۲ء کو پارٹی ایک کامیاب کونسل سیشن کرانے میں کامیاب ہوا، اس سیشن میں کئی اہم تاریخی فیصلے ہوئے۔ حاجی رزاق کے دلائل کی بدولت اہم ترامیم اور فیصلے ہوئے۔تیسرے دن پارٹی انتخابات آپ بطور سکرٹری اطلاعات منتخب ہوئے اس کے بعد اپنے پارٹی کے سیاسی و لٹریری ذمہ داریوں کو انتہائی احسن طریقے سے نبھایا اور کابینہ و سینٹرل کمیٹی کے میٹنگوں میں حاضر رہے اور ہر میٹنگ میں آپ کے تجاویز پارٹی کیلئے ایک سرمایہ کے حیثیت رکھتے تھے۔24مارچ کو آپ کی اغواء اور 21اگست کو آپ کی شہادت سے بلوچ قوم ایک مدبر، دانشور صحافی، قلمکار، ادیب اور سیاسی لیڈرسے جسمانی طور پر محروم ہوا۔بحیثیت سکرٹری جنرل مجھے دیر تک آپ کی کمی محسوس ہوگی۔ کیونکہ آپ نے پارٹی امور کو موثر انداز میں نبھانے کی خاطر مجھے جو کمک کی یقینا آپ کی جسمانی غیر موجودگی میرے لئے کئی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔لیکن آپ کے علمی و سیاسی کردار مجھ سمیت پوری پارٹی بلوچ قوم بلکہ پوری دنیا کی مظلوم اقوام کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
بقول جیولس فیوچک ”کام کرنے والا فانی ہوتا ہی ہے اس کا کام لافانی ہوتا ہے“