لاپتہ خدیجہ بلوچ ہدہ جیل منتقل،خودکش حملے اور سہولت کاری کے اعترافی بیان کیلئے دباؤ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے بعد ہدہ جیل میں منتقل کئے گئے نرسنگ طالبہ خدیجہ بلوچ کے والدین نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی کو بغیر کسی قانونی جواز کے زیرِ حراست رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔

والدین کے مطابق انہوں نے ہدہ جیل میں خدیجہ بلوچ سے ملاقات کی، تاہم اس دوران انہیں کسی قسم کی ایف آئی آر، عدالتی حکم یا باضابطہ نوٹیفکیشن فراہم نہیں کیا گیا۔

جیل حکام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خدیجہ بلوچ کو تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا بتایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں والدین نے دعویٰ کیا کہ خدیجہ بلوچ نے انہیں آگاہ کیا کہ ان پر مختلف الزامات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جن میں خودکش حملے سے متعلق دعوے اور سہولت کاری کے الزامات شامل ہیں، جنہیں انہوں نے بے بنیاد قرار دیا۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ خدیجہ بلوچ کو زبردستی کسی ویڈیو بیان کے لیے بھی دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔ والدین کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کا جبری بیان یا دباؤ کے تحت لیا گیا اقرار ناقابلِ قبول ہوگا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ خدیجہ بلوچ کے کیس میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔

Share This Article