بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے بعد ہدہ جیل میں منتقل کئے گئے نرسنگ طالبہ خدیجہ بلوچ کے والدین نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی کو بغیر کسی قانونی جواز کے زیرِ حراست رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔
والدین کے مطابق انہوں نے ہدہ جیل میں خدیجہ بلوچ سے ملاقات کی، تاہم اس دوران انہیں کسی قسم کی ایف آئی آر، عدالتی حکم یا باضابطہ نوٹیفکیشن فراہم نہیں کیا گیا۔
جیل حکام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خدیجہ بلوچ کو تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا بتایا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں والدین نے دعویٰ کیا کہ خدیجہ بلوچ نے انہیں آگاہ کیا کہ ان پر مختلف الزامات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جن میں خودکش حملے سے متعلق دعوے اور سہولت کاری کے الزامات شامل ہیں، جنہیں انہوں نے بے بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ خدیجہ بلوچ کو زبردستی کسی ویڈیو بیان کے لیے بھی دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔ والدین کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کا جبری بیان یا دباؤ کے تحت لیا گیا اقرار ناقابلِ قبول ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خدیجہ بلوچ کے کیس میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔