بلوچستان کےعلاقے نصیرآباد میں ایگری کلچر یونیورسٹی کے طلبہ نے آج اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کی بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بی ایس اے سی) نصیرآباد زون نے مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم نے طلبہ کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں سہولیات کی عدم موجودگی، طلبہ کو ہراساں کرنے کے واقعات، اور لیپ ٹاپ و اسکالرشپ کی غیر منصفانہ تقسیم نے طلبہ کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے، جبکہ انتظامیہ نہ صرف مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ شکایات سننے کے لیے بھی کوئی مؤثر فورم موجود نہیں۔
احتجاج میں شریک طلبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی میں بسوں کی شدید کمی، لیپ ٹاپ اسکیم کی غیر منصفانہ تقسیم، ادارے کو مستقل طور پر نوتال یونیورسٹی منتقل کرنے کا مطالبہ، اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی ان کی تعلیم کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
ان کے مطابق روزانہ آمدورفت کے لیے بسوں کی کمی خصوصاً طالبات کے لیے مشکلات کا باعث ہے، جبکہ لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ سے محرومی جدید تعلیمی ضروریات تک رسائی محدود کر رہی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی انتظامیہ کی مسلسل غفلت کو ظاہر کرتی ہے۔
بی ایس اے سی نصیرآباد زون نے واضح کیا کہ اگر طلبہ کے مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو تنظیم طلبہ کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دے گی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ طلبہ کے بنیادی حقوق اور سہولیات کی فراہمی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اور اگر ان مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو وہ طلبہ کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کرے گی۔