بلوچستان حکومت میں  49 ارب کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے مالی سال 2021-22 اور آڈٹ سال 2022-23 کی آڈٹ رپورٹ میں 49 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین کے مطابق 252 آڈٹ پیراز کا جائزہ لینے کے بعد 20 ارب روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 6 ارب روپے سے زائد رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جا چکی ہے۔

ریکوری میں سب سے زیادہ رقم محکمہ بورڈ آف ریونیو سے 6 ارب 11 کروڑ روپے شامل ہے، جبکہ سی اینڈ ڈبلیو، آبپاشی، جی ڈی اے، پی ایچ اے، زراعت، ایس اینڈ جی اے ڈی اور محکمہ صحت سے بھی کروڑوں روپے کی وصولیاں کی گئیں۔

اصغر علی ترین نے بتایا کہ PAC کی سفارش پر 20 کیسز نیب اور 6 کیسز اینٹی کرپشن میں زیرِ تفتیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری ہے، جو کمیٹی کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے ڈپٹی کمشنرز کے متعدد غیرضروری اکاؤنٹس کی نشاندہی کے بعد انہیں صرف تین قانونی اکاؤنٹس رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ PAC کو سو موٹو اختیار بھی دے دیا گیا ہے، جبکہ کمیٹی مکمل طور پر ڈیجیٹلائزڈ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے PAC کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریکوری کی یہ سطح تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے۔

Share This Article