آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی جاری ہے جبکہ ایران سے منسلک 4 جہاز گزرنے میں کامیاب ہوگئے۔
اتوار کے روز امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ پیر کو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں پر ناکہ بندی کا نفاذ ہو گا۔
بی بی سی ویری فائی نے شپ ٹریکنگ ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے وقت ایران سے منسلک کم از کم چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
بعد ازاں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی جہاز ناکہ بندی عبور نہیں کر سکا۔ بتایا گیا کہ چھ تجارتی جہاز ’امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ میں‘ واپس چلے گئے۔
امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ منگل کے روز دو تیل بردار جہازوں کو روکا گیا، جو انھی چھ جہازوں میں شامل تھے جنہیں امریکی افواج نے واپس جانے کی ہدایت دی تھی۔
ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، ایران سے منسلک ایک جہاز رچ سٹاری مشرق کی جانب سفر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم جب وہ خلیجِ عمان پہنچا تو بظاہر واپس مڑ گیا، ممکنہ طور پر امریکی افواج کی ہدایت پر۔
بی بی سی ویری فائی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کی بندرگارہ سے روانہ ہو کر آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور جہاز، کرسٹیانا نے بھی بعد میں اپنا رخ تبدیل کیا۔
امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ’مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بحری برتری برقرار ہے۔‘
سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: ’ایران کی اندازاً 90 فیصد معیشت کا انحصار سمندر کے راستے بین الاقوامی تجارت پر ہے۔ ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکی فوج نے سمندر کے ذریعے ایران میں آنے اور ایران سے جانے والی تمام معاشی تجارت مکمل روک دی ہے۔‘
سینٹ کام کے مطابق 10 ہزار سے زائد امریکی اہلکار درجنوں جنگی جہازوں اور طیاروں کی مدد سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل کرا رہے ہیں۔ پہلے 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز امریکی ناکہ بندی عبور نہ کر سکا، جبکہ چھ تجارتی جہاز امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خلیجِ عمان میں واقع کسی ایرانی بندرگاہ میں واپس چلے گئے۔
سینٹ کام کی جاری کردہ مزید تفصیلات کے مطابق امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز اُن اثاثوں میں شامل ہیں جو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرا رہے ہیں۔ ایک عام ڈیسٹرائر پر 300 سے زائد بحری اہلکار تعینات ہوتے ہیں، جو جارحانہ اور دفاعی سمندری کارروائیاں انجام دینے میں اعلیٰ درجے کی تربیت رکھتے ہیں۔
ایکس پر جاری سینٹ کام کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساحلی علاقوں یا بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے ہر ملک کے جہاز پر ناکہ بندی کا نفاذ بلا امتیاز ہو گا۔ جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے وہ جہاز جن کی منزل یا روانگی کا مقام ایران نہیں ہے، انھیں نہیں روکا جائے گا۔