بلوچستان میں ڈرون حملوں اور جبری گمشدگیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں ایک جانب مستونگ کے علاقے کردگاپ میں پاکستانی فورسز کے آپریشن کے دوران ایک ڈرون حملے میں ایک نوجوان ہلاک اور متعدد خواتین زخمی ہوئیں، وہیں دوسری جانب ضلع پنجگور کے علاقے پروم سے 2 نوجوان طالب علموں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فورسز کے آپریشن کے دوران ایک ڈرون حملے میں ایک نوجوان ہلاک جبکہ متعدد خواتین زخمی ہو ئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق پاکستانی فورسز نے مستونگ گردگاپ کے علاقے گرگینہ، کلی موسیٰ خان میں ایک گھر کو کواڈ کاپٹر حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عبدالصمد ولد عبدالواحد سرپرہ نامی نوجوان شدید زخمی ہو گئے، جبکہ گھر میں موجود خواتین بھی زخمی ہوئیں۔
اس دوران حملے میں زخمی نوجوان عبدالصمد کو طبی امداد کے لیے کوئٹہ منتقل کیا جارہا تھا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی چل بسے۔
واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے ڈرون حملوں میں شہریوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہوں۔ اس سے قبل گزشتہ سال بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں متعدد ڈرون حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 11 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اسی طرح خضدار کے علاقے مولہ میں فوجی آپریشن کے دوران ایک ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے نشانہ بنے تھے۔
خضدار کے علاوہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی ڈرون حملوں میں شہری جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں بلوچ آزادی پسند مسلح گروپ کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے پروم سے 2 نوجوان طالب علموں کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، 5 اپریل 2026 کو شام تقریباً 5 بجے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے پنجگور کے رہائشی دو طالب علموں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
لاپتہ ہونے والے افراد کی شناخت 17 سالہ حاتم ولد حاجی محمد اور 18 سالہ مروان ولد حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
دونوں طالب علم ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی علاقے شاپتان، پنجگور سے بتایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، دونوں نوجوانوں کو پروم کے مقام سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں اور بلوچ سیاسی جماعتوں نے ان حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنائے جانے اور جبری گمشدگیوں کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری کارروائی اور ایسے واقعات کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔