کوئٹہ : وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ جاری ، صدیق بلوچ کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جبری گمشدگیوں کے خلاف اور لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ کو آج 6127 دن مکمل ہوگئے۔

تنظیم کے مطابق جبری لاپتہ محمد صدیق کے اہلخانہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سے رابطہ کرکے ان کی جبری گمشدگی سے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں۔

اہلخانہ کے مطابق، محمد صدیق ولد شیر محمد کو رات 12 بجے کلی اسماعیل، کوئٹہ میں ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے خاندان کے سامنے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سے بارہا رابطہ کرنے کے باوجود نہ تو محمد صدیق کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کی خیریت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے اہلخانہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تنظیم محمد صدیق کے کیس کو آئینی اور قانونی طریقے سے اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھائے گی اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ محمد صدیق کو بغیر وارنٹ گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر رکھنا اور لواحقین کو معلومات فراہم نہ کرنا ملکی قوانین اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وی بی ایم پی اس عمل کی شدید مذمت کرتی ہے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ محمد صدیق کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق دیا جائے۔

بیان میں وی بی ایم پی کی جاری تحریک کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ طویل جدوجہد متاثرہ خاندانوں کے صبر، استقامت اور انصاف کی امید کی عکاس ہے۔

ان کے مطابق تنظیم کا مطالبہ ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

Share This Article