ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کے ایک شدید واقعے میں ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔
واقعہ استنبول کے مصروف بزنس ڈسٹرکٹ میں یاپی کریڈی پلازہ کے باہر پیش آیا، جہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک منٹ سے بھی کم دورانیے میں دو درجن سے زائد گولیوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ دو مسلح پولیس اہلکار ایک گاڑی کے قریب پوزیشن لیے ہوئے ہیں جبکہ ایک اہلکار فائرنگ کے دوران گاڑیوں کی آڑ میں آگے بڑھتا ہے۔
ترکی کے وزیرِ داخلہ مصطفیٰ چفتجی نے تصدیق کی کہ مسلح تصادم کے دوران ایک حملہ آور مارا گیا اور دو زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، جبکہ دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔
ان کے مطابق حملہ آور ازمیت سے کرائے کی گاڑی میں استنبول پہنچے تھے اور ان میں سے ایک کا تعلق ایک ایسی تنظیم سے ہے جو مذہب کا غلط استعمال کرتی ہے۔ گرفتار افراد میں دو بھائی بھی شامل ہیں جن میں سے ایک کا منشیات کا ریکارڈ موجود ہے۔
ترکی کے گورنر نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پولیس پر پستولوں اور رائفلوں سے فائرنگ کی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ فائرنگ کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم واقعے کے وقت قونصل خانے میں کوئی سفارتی عملہ موجود نہیں تھا۔ اسرائیل نے پہلے ہی ترکی میں اپنی سفارتی سرگرمیوں کو کم سے کم سطح تک محدود کر رکھا ہے، اور غزہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس وقت انقرہ میں اسرائیلی سفارتخانے اور استنبول میں قونصل خانے میں کوئی اسرائیلی سفارتکار تعینات نہیں ہے، تاہم سکیورٹی انتظامات معمول کے مطابق برقرار تھے۔
ترکی نے حالیہ مہینوں میں ایران کے ڈرون حملوں کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، جبکہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں استنبول میں پیش آنے والا یہ واقعہ سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔