عالمی تنازعات کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصان پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایران جنگ سے امریکہ کو روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے جنگی لاگت کے منصوبے کی ڈائریکٹر سٹیفنی سیویل کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں اور فوجی اخراجات، امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر اخراجات کی مد میں اس جنگ سے امریکیوں کو پہلے ہی دسیوں ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
سیویل کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتیجے عوامی قرضوں میں روزانہ کی بنیاد پر بہت بڑی رقم کا اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے مارچ کے آغاز میں کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔ سیویل کے خیال میں درحقیقت یہ لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے دفاعی بجٹ کی ماہر لنڈا بلائمز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس جنگ پر پہلے ہی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دو ارب ڈالر لاگت آ رہی ہے۔
سیویل کا کہنا ہے کہ جنگی اخراجات کا بوجھ ہمیشہ اوسط امریکی پر پڑتا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں اوپر جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی، کاروبار میں غیر یقینی صورتحال اور انشورنس کی لاگت میں اضافے جیسے طویل مدتی اثرات بھی پڑیں گے۔
وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ایران میں جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا جائے گا جو سیویل کے بقول ایک بہت خطیر رقم ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعی اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جنگ جاری ہے۔‘