ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔
صدر پیزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔
یہ بیان پیزشکیان اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا کے درمیان ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آیا، جس کی تفصیلات ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے جاری کیں۔
پیزشکیان کے مطابق ان شرائط میں ’لازمی ضمانتیں‘ شامل ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کو روکا جا سکے۔
انھوں نے کہا: ’ہم نے کبھی بھی کشیدگی یا جنگ کی خواہش نہیں کی‘، اور مزید کہا کہ ’صورتحال کو معمول پر لانے کا حل ان کے جارحانہ حملوں کا خاتمہ ہے۔‘
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ’مذاکرات نہیں بلکہ پیغامات کا تبادلہ ہے، جو براہِ راست یا خطے میں ایران کے دوستوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔‘
عراقچی نے کہا کہ انھیں مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی جانب سے ’پہلے کی طرح براہِ راست پیغامات موصول ہوتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کا جواب نہیں دیا۔ یہ بیان اس رپورٹ کے باوجود سامنے آیا ہے جس میں تسنیم نیوز ایجنسی جو ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہے، نے 26 مارچ کو ایک ’باخبر ذریعے‘ کے حوالے سے کہا تھا کہ ایران نے اس منصوبے پر اپنی شرائط کے ساتھ جواب دیا ہے۔
عراقچی کے مطابق ’جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط واضح ہیں‘، اور ایران یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ دوبارہ حملے نہ ہوں اور اسے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ بھی ملے۔
انھوں نے کہا کہ ایران عارضی جنگ بندی قبول نہیں کرے گا بلکہ ’مکمل طور پر جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، نہ صرف ایران میں بلکہ پورے خطے میں‘۔