لبنان کے جنوب میں ایک اسرائیلی حملے میں تین لبنانی صحافیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ان تینوں ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
علی شعیب، جو حزب اللہ کے زیرِ انتظام ٹی وی نیٹ ورک المنار کے رپورٹر تھے اور المیادین کے رپورٹرز فاطمہ اور محمد فطونی جزین کے قصبے میں فضائی حملے میں مارے گئے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’سنگین جرم‘ قرار دیا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت جنگ کے دوران صحافیوں کو تحفظ دیا جانا چاہیے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے ایک حملے میں علی شعیب کو ہلاک کیا، لیکن ان کا الزام ہے کہ وہ ایک صحافی کے روپ میں حزب اللہ کے کارندے تھے۔
یہ دوسری بار ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد لبنان میں اسرائیل پر صحافیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے المنار ٹی وی کے ایک معروف میزبان محمد شری اور ان کی اہلیہ ایک حملے میں مارے گئے تھے۔
اب تک لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 1100 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 120 بچے اور 42 طبی امداد دینے والے افراد شامل ہیں۔
لبنان میں بہت سے لوگ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسرائیل وہی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے جس کا اسے غزہ میں استعمال کرنے کا الزام دیا جاتا رہا ہے، جس میں جان بوجھ کر شہریوں، صحافیوں اور طبی عملے کو نشانہ بنانا شامل ہے، جس کی اسرائیل تردید کرتا ہے۔