تہران کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر حملے کے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی اور امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
آئی آر سی جی کا کہنا ہے کہ خطے کی تمام یونیورسٹیوں کو اس وقت تک جائز اہداف سمجھا جاتا ہے جب تک کہ ان کی دو یونیورسٹیوں کو ایرانی یونیورسٹیوں پر حملہ کرنے کے جواب میں نشانہ نہیں بنا لیا جاتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم خطے میں امریکی یونیورسٹیوں کے تمام عملے، فیکلٹی، اور طلبا کے ساتھ ساتھ ان کے آس پاس کے رہائشیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان یونیورسٹیوں سے ایک کلومیٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کو خطے میں امریکی اداروں پر انتقامی کارروائیوں سے بچنے کے لیے ایرانی یونیورسٹیوں پر بمباری کی مذمت کرنی چاہیے، ایسا کرنے کے لیے منگل 30 مارچ کو مقامی وقت کے مطابق 12 بجے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب جنوبی اسرائیل کے کچھ حصوں میں دوسرا حملہ کیا ہے۔
یحییٰ سریع یمن کی مسلح افواج کے حوثی دھڑے کے ترجمان نے کہا کہ گروپ نے ’کروز میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے یہ حملے کیے‘، جن کا ہدف اسرائیل کی ’کئی اہم فوجی تنصیبات‘ تھیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ حملے ایران اور حزب اللہ کی متعلقہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ’مل کر کیے گئے تھے اور اپنے مقاصد میں کامیاب رہے اور آئندہ چند دنوں میں مزید حملے کیے جائیں گے جب تک کہ دشمن اپنی حملوں اور جارحیت کو بند نہیں کرتا۔‘
یہ بیان ان کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر اس کے بعد جاری کیا گیا جب اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں حوثیوں کے دوسرے حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔