وی بی ایم پی چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے مسئلہ جبری گمشدگی کے حل کیلیے چند نکات پیش کردیئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام قائم دنیا کے طویل ترین اور پرامن احتجاجی کیمپ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6117 دن مکمل ہو گئے ہیں۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں جیسے سنگین انسانی مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ انسانی اقدار اور ملکی قوانین کے مطابق سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس حوالے سے چند اہم نکات یہ ہیں:

  1. آئین اور قانون کی بالادستی
    ریاستی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر کارروائی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کریں۔ کسی بھی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کی اجازت نہ ہو۔
  2. شفاف تحقیقات اور جوابدہی
    جبری گمشدگیوں کے تمام کیسز کی آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں، اور جو عناصر اس میں ملوث ہوں انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
  3. لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنا
    جن افراد پر کسی قسم کا الزام ہے، انہیں فوری طور پر منظر عام پر لا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہو۔
  4. متاثرہ خاندانوں کی داد رسی
    لاپتہ افراد کے لواحقین کو قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے، اور ان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے۔
  5. قانون سازی اور اصلاحات
    جبری گمشدگیوں کے خلاف واضح اور سخت قوانین بنائے جائیں، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔
  6. انسانی حقوق کی تنظیموں کو رسائی
    آزاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو نگرانی اور رپورٹنگ کی اجازت دی جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
  7. مکالمہ اور سیاسی حل
    مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ریاست اور متاثرہ فریقین کے درمیان سنجیدہ مکالمہ شروع کیا جائے، تاکہ اعتماد بحال ہو اور دیرپا حل نکل سکے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف انصاف کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط کریں گے۔

Share This Article