بلوچستان میں سوشل میڈیا کنٹرول کی تیاریاں، آزادی اظہار پر مزید قدغنوں کا خدشہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

کوئٹہ میں بدھ کے روز بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزہ فاطمہ خواجہ نے ملاقات کی، جس میں ڈیجیٹل گورننس، نیشنل ڈیجیٹل پالیسی اوربلوچستان میں آئی ٹی کے فروغ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ملاقات میں وفاقی سیکرٹری آئی ٹی اور چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل اور وزیر اعلیٰ کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند بھی شریک تھے۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان حکومت نیشنل ڈیجیٹل پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہبلوچستان میں ڈیجیٹل اصلاحات کا آغاز محکمہ خزانہ کی ڈیجیٹلائزیشن سے کیا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے نوجوانوں کی میرٹ پر تقرری کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے کمیشن کے نام پر ہونے والی بدعنوانی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مالیاتی نظام کو شفاف، مؤثر اور کرپشن سے پاک بنایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، گورننس میں بہتری اور نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ڈیجیٹل پالیسی پر کام کرنے والی متعلقہ اتھارٹی کو کوئٹہ آنے کی دعوت دینے کی تجویز دی تاکہ زمینی حقائق کے مطابق مؤثر حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔

سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا کے مثبت، ذمہ دارانہ اور تعمیری استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان میں سیاسی و سماجی حلقوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت بلوچستان میں اختلافی اور حقیقی آوازوں کو دبانے کے لیے سوشل میڈیا پر مزید کنٹرول کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا کی نگرانی اور پابندیوں کو اب قانونی شکل دینے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں پہلے ہی آزادی اظہار رائے پر سخت پابندیاں موجود ہیں، جبکہ سائبر کرائم قوانین کے تحت متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کارکنوں کے مطابق ان افراد کو فیئر ٹرائل کا حق بھی فراہم نہیں کیا جاتا اور انہیں اکثر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف بلوچستان حکومت ڈیجیٹل گورننس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی قدغنیں بلوچستان میں آزادی اظہار کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔

Share This Article