امریکہ کے سابق مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے ایران پر امریکی حملوں کو ’بے ترتیب اور بغیر سوچے سمجھے کیا گیا عمل‘ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران ایک سال سے کچھ زیادہ مدت تک قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے جان بولٹن طویل عرصے تک تہران کی مذہبی حکومت کی تبدیلی کے حامی رہے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ جس بے ربط انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے زیادہ بہتر یہ تھا کہ یہ کام درست طریقے سے اور تحمل سے انجام دیا جاتا۔‘
جان بولٹن کا کہنا تھا کہ ’امریکی عوام تیار نہیں تھی، کانگریس تیار نہیں تھی، یہاں تک کہ ہمارے اتحادی بھی تیار نہیں تھے۔‘
سابق مشیر قومی سلامتی کے مطابق ایران کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر کے کتنی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ اس اہم تجاری آبی گزر گاہ سے دنیا بھر میں موجود تیل اور مائع قدرتی گیس کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی حکومت اقتدار میں رہتی ہے تو اس کے پاس واضح ثبوت موجود ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ یہ کوئی جوہری ہتھیار تو نہیں لیکن اس کے ذریعے وہ خلیج سے نکلنے والے تیل پر آئندہ کے لیے اپنی مرضی مسلط کر سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ سنہ 2019 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد سے جان بولٹن ٹرمپ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اپنی خود نوشت میں وہ اپنے سابق باس کو ’حیران کن حد تک لا علم‘ اور عہدے کے لیے نا اہل قرار دے چکے ہیں۔