لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، جنوبی حصے کو الگ کر کے بفر زون بنانے کا خدشہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

لبنان کے دارلحکومت بیروت میں عوامی سطح پر تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کر کے ایک بفر زون قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ہیوگو باچیگا کے مطابق لبنانی شہریوں میں یہ خوف گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج سرحد پار وسیع پیمانے پر دراندازی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیوں میں توسیع کے منصوبے منظور کر لیے گئے ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے، جس کے جواب میں اسرائیل نے کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 118 بچے اور 40 طبی کارکن شامل ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے ایک بڑے انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ فوج کو دریائے لیطانی پر موجود ان گزرگاہوں کو تباہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جنہیں حزب اللہ اپنے جنگجوؤں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ دریا اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس کے پل عام شہری بھی استعمال کرتے ہیں، جس سے لبنان میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ اسرائیل جنوبی علاقے کو باقی ملک سے کاٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حزب اللہ، جو 1980 کی دہائی میں اسرائیلی قبضے کے ردعمل میں وجود میں آئی، اپنے ہتھیاروں کے مستقبل پر بات کرنے سے انکار کرتی رہی ہے، جبکہ لبنانی حکومت اس تنظیم کو غیر مسلح کرنے کا عزم ظاہر کر چکی ہے۔

لبنان کے صدر، جو فوج کے سابق سربراہ بھی رہ چکے ہیں، خبردار کر چکے ہیں کہ حزب اللہ کے خلاف طاقت کا استعمال ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم اور تشدد کو بڑھا سکتا ہے۔

اسی تناظر میں لبنان کے صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پلوں اور اہم تنصیبات پر حملے ’زمینی حملوں کی طرف پیش قدمی‘ کے مترادف ہیں۔

لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق صدر نے دریائے لیطانی سمیت جنوبی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تباہی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں لبنان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہی ہیں۔

صدر جوزف عون نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ اسرائیل کو مزید حملوں سے روکا جا سکے اور لبنان کو ایک بڑے انسانی اور علاقائی بحران سے بچایا جا سکے۔

Share This Article