بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں تربت میں بی وائی سی کے رکن سید بی بی بلوچ کے گھر پر ریاستی فورسز کا چھاپہ اور ہراسانی کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی وائی سی کے رکن سید بی بی کو گزشتہ پانچ ماہ سے مسلسل ہراسانی کا سامنا ہے۔ ان کا نام فورتھ شیڈیول میں شامل کیا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک بیوہ خاتون ہیں اور اپنے یتیم بچوں کی واحد کفیل ہیں۔ فورتھ شیڈیول میں شمولیت کے بعد بار بار تھانوں میں حاضریاں، انتظامی دباؤ اور اب آدھی رات کو گھر پر چھاپے، یہ تمام اقدامات نہ صرف بنیادی شہری آزادیوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ انکے کمسن بچوں کی ذہنی اذیت کا سبب بھی بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اختیار کا استعمال اگر قانون، شفافیت اور انسانی وقار کے دائرے میں نہ ہو تو وہ انصاف نہیں بلکہ جبر کہلاتا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں، بلکہ ایک آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کو ہراسا کرنا دراصل اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش ہے۔
بی وائی سی رہنما نے کہا کہ بی وائی سی کے پانچ رہنما گزشتہ ایک سال سے جبری قید میں ہیں، جبکہ ایک اور رکن نظر مری تاحال جبری لاپتہ ہیں۔ یہ صورتحال انفرادی واقعات تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے کہ مقتدر قوتیں بلوچ نسل کشی ہر صورت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔